5 فروری 2026 - 18:38
دفاعِ ولایت و مرجعیت کانفرنس؛ رہبرِ انقلاب مظلوموں کے لیے امید اور استقامت کی علامت ہیں، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

اسلام آباد: مجلس علمائے مکتبِ اہلِ بیت پاکستان کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں جامعۃ الرضا کے مقام پر دفاعِ ولایت و مرجعیت کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے علمائے کرام، دینی شخصیات اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، کانفرنس سے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، صدر مجلس علمائے مکتبِ اہلِ بیت پاکستان علامہ سید حسنین عباس گردیزی، علامہ سید علی محمد نقوی، علامہ سید جابر حسین شیرازی، علامہ اصغر عسکری اور دیگر علما کرام نے خطاب کیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مظلوم اقوام کے لیے امید، استقامت اور بصیرت کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رہبرِ انقلاب نے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے اثرات پورے خطے تک پھیلیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ماضی میں آٹھ سالہ جنگ جدید اسلحے کے بجائے ایمان، قربانی اور استقامت کی طاقت سے لڑی۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے امام خمینیؒ کے افکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مکتبِ شہادت سے وابستگی رکھنے والی قوم کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخِ تشیع میں آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای جیسا بابصیرت فقیہ اور رہبر نظر نہیں آتا، جو صدیوں دور تک حالات کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ ظلم کے مقابلے میں عدل کا پرچم اٹھانے والوں کا دفاع ہر باشعور انسان کی ذمہ داری ہے۔ آج کربلا کو یاد کرنے کے دعوے کافی نہیں، بلکہ حق کے میدان میں عملی طور پر کھڑے ہونے کا وقت ہے۔ انہوں نے یومِ کشمیر کے حوالے سے امام خمینیؒ کے بیان کردہ اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم اقوام کی قیادت کو مضبوط کرنا، ان کی عزتِ نفس کا تحفظ اور ان پر فیصلے مسلط نہ کرنا اسلامی فکر کا بنیادی تقاضا ہے۔

صدر مجلس علمائے مکتبِ اہلِ بیت پاکستان علامہ سید حسنین عباس گردیزی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزمائشیں سننِ الٰہی کا حصہ ہیں اور قوموں کی تربیت مشکلات کے ذریعے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینیؒ نے جلاوطنی، قید اور شدید دباؤ کے باوجود حق کا راستہ نہیں چھوڑا اور اسلامی انقلاب برپا کیا۔

انہوں نے کہا کہ آج مرجعیت، ولایت اور اسلامی جمہوریہ ایران کو وقت کے فرعونوں کی جانب سے کھلی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، ایسے میں ہر با ضمیر انسان کی ذمہ داری ہے کہ حقیقی اسلامی قیادت اور مرجعیت کا دفاع کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر رہبرِ معظم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو امریکہ کے لیے بھی دنیا امن کی جگہ نہیں رہے گی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید علی محمد نقوی نے کہا کہ امریکی صدر اور صہیونی دہشت گرد حکومت کے حکام کی جانب سے رہبرِ انقلاب کے خلاف توہین آمیز بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہیں شیعہ اسلامی ثقافت اور دینی غیرت کا ادراک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرجعِ تقلید پر حملہ درحقیقت پورے دینی و اعتقادی نظام پر حملہ ہوتا ہے، جس کے خلاف عالمِ اسلام میں شدید ردِعمل فطری ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر علامہ اصغر عسکری نے اعلامیہ پیش کیا جس میں مرجعیت، فتویٰ اور حکمِ شرعی کی تاریخی اور دینی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ اعلامیے میں واقعۂ عاشورا کو دینی غیرت اور حق کے دفاع کی روشن مثال قرار دیتے ہوئے اسلامی قیادت کے خلاف دھمکی آمیز رویوں کی شدید مذمت کی گئی اور اتحاد و بیداری پر زور دیا گیا۔

کانفرنس میں اسلام آباد اور راولپنڈی سے بڑی تعداد میں علمائے کرام، دینی کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha