27 جنوری 2026 - 20:57
حصۀ اول | عالمی مفکرین کی نظریں ایران پر لگی ہیں، امریکہ غلام پروری اور نسل کشی پرقائم ہؤا ہے، ایرک والبرگ

نامہ نگار، مصنف، مشرق وسطی اور روس کے امور کے ماہر ایرک والبرگ کہتے ہیں: "غلام پروری" (Slavery)، نسل کشی اور جنگ کی بنیاد پر قائم ہؤا ہے جس سے، اس سے بہتر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ مغرب میں ـ دنیاوی بقاء کی پاسداری کے لئے ـ بہت دانشوروں اور مفکرین کی نظریں ایران پر لگی ہوئی ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "امریکہ زوال" کا تیسرا بین الاقوامی سیمینار اکتوبر کے مہینے میں، چھ آبان 1404 میں، "دنیا کا نیا دور" کے عنوان سے تہران میں منعقد ہؤا۔ جس میں اندرونی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز نے شرکت کی اور اندرونی اور غیر ملکی محققین، پروفیسروں نے خطاب کیا اور امریکہ کے سابق سفارت خانے میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی کئی فعال کارکنوں اور ماہرین نے بھی اس سیمینار کی ایک نشست میں تقاریر کیں۔

کینیڈین نامہ نگار، مصنف، مشرق وسطی اور روس کے امور کے ماہر ایرک  والبرگ (Eric Walberg) نے اس سیمینار کے مقالہ نگار کے طور پر اپنے مقالے کے پہلے حصہ میں لکھا:

 میں ایرک والبرگ ہوں؛ ایک مصنف۔ مجھے خاموشی ہے کہ "امریکی زوال" کے بارے میں آپ کی کانفرنس میں حاضر ہوں۔ یہ مسئلہ، اس کی دستاویز کاری (Documentation) اور پوری دنیا پر اس کے اثرات سے نمٹنا، درحقیقت میری زندگی کے تجربات کا مرکزی نقطہ ہیں۔ اس کانفرنس میں، میں امریکہ کی خانہ جنگی نیز ویتنام کی جنگ میں امریکہ کی عسکری مداخلت پر روشنی ڈالنا چاہوں گا، کیونکہ یہ امریکی استعمار (Imperialism) کے دو نمونے ہیں جو آج کے یوکرین کی طورت حال کے ادراک میں ہماری مدد کرتے ہیں؛ یوکرین [کی جنگ] بمقابلہ روس۔

امریکہ کی خانہ جنگی سے شروع کرتا ہوں۔ البتہ کہتا چلوں کہ امریکی انقلاب سے، یا نہیں بلکہ امریکہ کے انقلاب سے بھی پہلے سے۔ امریکہ کی بنیاد سنہ 1776ع‍ میں اور برطانوی حکمرانوں کی سرنگونی سے نہیں پڑی؛ بلکہ اس کا آغاز سنہ 1620ع‍ غلاموں کے پہلے گروہوں کے لآئے جانے ـ اور غلام پروری کے نظام کے آغاز ـ سے ہؤا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکی کی بنیاد سلیوری انسانوں کو غلام پروری اور نسل کشی پر رکھی گئی۔ سینکڑوں مقامی قبائل، زبانوں اور اقوام کو نیست و نابود ہونا چاہئے تھا، تاکہ سفید فام اینگلو_سیکسن (Anglo-Saxons) آبادکار اس سرزمین پر قابض ہو سکیں۔ تو امریکہ در حقیقت یہ ہے، جو تشدد پر قائم ہؤا۔ سنہ 1776ع‍ محض تشدد کا دوسرا مرحلہ تھا جس نے امریکہ پہلے کچھ زیادہ عالمی معیشت میں ضم کر دیا۔

امریکہ اس کے بعد، آخرکار، سب سے بڑی صنعتی اور تجارتی طاقت بن گیا، لیکن ابتدائی انقلاب درحقیقت غلام پروری کی بنیاد پر تھا۔ اور یہ نظریہ کہ "آپ سلیوری کے ساتھ ساتھ آزآدی کے مالک بھی بن سکتے ہیں"، ایک تضاد ہے؛ لیکن انہوں نے اس اس مسئلے کی سفید شوئی (Whitewashing) کردی۔ جو بہرحال خانہ جنگی پر بھی منتج ہؤا۔

چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ درحقیقت سترہویں صدی میں غلام پروری، اور انیسویں صدی میں خانہ جنگی کے دوران، قائم ہؤا، کیونکہ سنہ 1863ع‍ میں، خانہ جنگی کے خاتمے پر، تمام نسلوں کے لئے کچھ آزادیاں حاصل ہوئیں اور نسل پرستی کچھ کمزور ہوئی۔ وہ خانہ جنگی انتہائی ہولناک تھی اس میں لاکھوں امریکی ہلاک ہوئے جن میں ہلاک ہونے والے صرف فوجیوں کی تعداد 500000 تھی۔ ہلاک شدہ امریکی فوجیوں کی تعداد ان تمام جنگوں سے زیادہ تھی جو خانہ جنگی سے پہلے اور اس کے بعد کی جنگوں میں مارے گئے ہیں۔

چنانچہ امریکی خانہ جنگی انتہائی ہولاک تھی۔ ابھی جو ہم یہاں بات کر رہے ہیں اپنے ذہن کے ایک گوشے میں یوکرین کو بھی تصور کریں جہاں شاید 10 لاکھ ۔۔۔ شاید 10 لاکھ نہیں ۔۔۔ کوئی بھی نہیں جانتا کہ کتنے فوجی۔۔۔ مارے گئے ہیں لیکن جنگ کے اختتام تک 10 لاکھ فوجی مارے جائیں گے۔

یہ اس ملک کے گنے چنے پھول ہیں۔ اس طریقے سے ابادیاتی شکست و ریخت، تقریبا تمام ترقی یافتہ ممالک میں، رونما ہوتی ہے۔ آپ دونوں ملکوں [روس اور یوکرین میں] نوجوان مردوں کی ایک نسل یا دو نسلوں کو کھو رہ ہیں۔ یہ ایک فرسودہ کرنے والی جنگ (War of Attrition) ہے۔ پہلی عالمی جنگ ایسی ہی تھی؛ دوسری عالمی جنگ بھی آخرکار ایک فرسودہ کرنے والی جنگ میں تبدیل ہوئی اور امریکہ کی خانہ جنگی بھی ایسی ہی تھی۔

چنانچہ جدید جنگیں "صنعتی" ہیں: لوگوں کی ایک بڑی تعداد مر جاتی ہے، اور فتح اس وقت حاصل ہوتی ہے کہ مخالف فریق اس قدر افراد قوت کی قلت سے دوچار ہوجائے کہ جنگ کو مزید جاری نہ رکھ سکے۔ یہ وہی چیز ہے جس کا آج ہم یوکرین میں سامنا کر رہے ہیں۔

امریکی خانہ جنگ کا ایک دلچسپ نکتہ اس کا جغرافیائی-سیاسی (Geopolitical) پہلو ہے۔ ایک فریق شمال یا بعنوان "یونین" تھا جو آزادی کے تصور کا تحفظ اور غلام پروری کے خاتمے کے درپے تھا اور دوسری فریق جنوب تھا جہاں کپاس کی کھیتیاں تھیں اور یہ علاقہ امریکی دولت اور برآمدات کا ذریعہ تھا: کپاس کی برآمدات۔ چنانچہ حتیٰ شمال کو بھی جنوب کے کپاس کی پیداوار اور آمدنی کی ضرورت تھی۔

یہ آمدنی اس ذریعے سے شمال منتقل ہوتی تھی کہ صنعتی قوت، بینکار اور باقی وسائل اور ڈھانچے شمال میں واقع تھے۔ برطانیہ اور فرانس نے ابتداء میں جنوب کی حمایت کی، لیکن فرانس کو رفتہ رفتہ، مسئلے کو سمجھ گیا کہ جنوب شکست کھا رہا ہے اور شمال کی حمایت کرنے لگا کیونکہ فرانس کو کپاس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن برطانیہ کے لنکشر اور باقی شمالی علاقوں میں  دھاگا بنانے اور کپڑے کے کارخانوں کو کپاس کی ضرورت تھی۔ ادھر برطانیہ وہاں جنوب سے کپاس خرید کر ہندوستان کو بھی فروخت کر دیتا تھا تاکہ اس ملک کی معیشیت کو کمزور کیا جا سکے کیونکہ ہندوستان خود کپاس پیدا کرنے والا ملک تھا اور اس کی معیشت کا دارومدار کپڑے کی صنعت پر تھا۔ برطانیہ چاہتا تھا کہ اپنے زیر قبضہ اس ملک کی معیشت کو کمزور کرے اور اسے دیوالیہ پن سے دوچار کرے، اور اپنے پارچہ بافی (Textiles) کو ہندوستانیوں کے ہاتھوں فروخت کرے۔ آج یہی رویے افریقہ کی مقاومی صنعتوں کو کمزور کرنے کے لئے دیکھنے میں آ رہے ہیں درآمدات کے ذریعے۔۔۔ البتہ آج چین وہ ملک ہے کہ سستی مصنوعات کو افریقہ برآمد کرتا ہے اور افریقیوں کو دیوالیہ کرکے انہیں اپنا کٹھ پتلی بنا رہا ہے۔

بہرصورت، امریکہ کی خانہ جنگی میں، برطانیہ ابھی جنوب کی حمایت کر رہا تھا جس کا ایک سبب انتقام تھا، کیونکہ امریکیوں نے برطانیوں کو نکال باہر کیا تھا، اور ان کی حمایت کا ایک سبب صنعت کا مسئلہ تھا۔

حصۀ اول | عالمی مفکرین کی نظریں ایران پر لگی ہیں، امریکہ غلام پروری اور نسل کشی پرقائم ہؤا ہے، ایرک والبرگ

دوسری طرف سے فرانس ـ جو شمال کی حمایت کر رہا تھا ـ "کسی حد" تک غلام پروری کے خاتمے کا حامی تھا گوکہ وہ اس رجحان کا کٹر حامی نہیں تھا، تاہم اپنے آئین کے تحت انہیں غلام پروری کی مخالفت کرنا پڑتی تھی۔ روس بھی اپنے اصولوں کی رو سے امریکہ میں غلام پروری کے خلاف تھا۔ اتفاق سے روس کے تاریخی اصلاح پسند بادشاہ الگزینڈر دوئم انیسویں صدی کے وسط میں ـ بالکل اسی زمانے میں ـ جب امریکیوں نے سلیوری کے قانون کو منسوخ کیا ـ زرعی غلامی (Serfdom) [اور زمینداری نظام Feudal system] کے خاتمے کا اعلان کیا، جو ایک اچھی مقارنت تھی۔

روس نے ابتداء ہی سے شمال کی مدد کی؛ روسیوں کو سلیوری، کپاس اور جنوب کی حمایت سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، چنانچہ وہ شمال کے حامی رہے اور امریکیوں کی مدد کی تاکہ وہ کامیاب ہوجائیں۔ روس کے پاس بڑی بحریہ تھی اور اس نے شمال کی مدد کی یہ بہت اچھی بات تھی لیکن یہ کہ آج امریکہ روس کو کمزور کر رہا ہے اور اس ملک پر "ہولناک امیریلزم" کا ملزم ٹہرا رہا ہے، یہ میرے لئے دردناک اور تکلیف دہ ہے۔ لیکن مسئلہ کچھ اور ہے اور یہ بحث کچھ اور ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha