26 جنوری 2026 - 20:27
ایران کے خلاف جارحیت کے نتائج سنگین ہوں گے:عرب تجزیہ کار

اہل بیت نیوز ایجنسی عرب تجزیہ کار علی حمیہ نے ہے کہ ایران پر حملے کا جواب علامتی نہیں بلکہ بھرپور اور متناسب ہوگا جس کے نتیجے میں امریکہ اور اسرائیل اندرونی بحرانوں سے دوچار ہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی عرب تجزیہ کار علی حمیہ نے ہے کہ ایران پر حملے کا جواب علامتی نہیں بلکہ بھرپور اور متناسب ہوگا جس کے نتیجے میں امریکہ اور اسرائیل اندرونی بحرانوں سے دوچار ہیں۔

دفاعی امور کے عرب ماہر نے ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی جارحیت کے سنگین اور وسیع علاقائی نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات کے اثرات ہرگز قابو میں نہیں رہیں گے۔

المعلومہ نیوز کے مطابق فوجی و اسٹریٹجک امور کے ماہر علی حمیہ نے زور دے کر کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں سخت، طاقتور اور فیصلہ کن جوابی ردعمل سامنے آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو خطے میں امریکی بحری بیڑوں کی نقل و حرکت اور جاری عسکری سرگرمیوں کے بارے میں مکمل اور درست معلومات حاصل ہیں، اور تہران براہ راست جارحیت کی صورت میں اپنی بھرپور دفاعی اور عسکری قوت استعمال کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

علی حمیہ کے مطابق، ایران کا ردعمل کسی صورت نمائشی یا علامتی نہیں ہوگا بلکہ جوابی ردعمل کی سطح اور نوعیت کے عین مطابق اور مؤثر ہوگا۔

امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کی دھمکیاں دراصل تہران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد سیاسی اور سکیورٹی مطالبات مسلط کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ خطے میں اپنی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن کو میڈیا اور عسکری کشیدگی میں اضافے کے ذریعے بحال کرنا چاہتا ہے، حالانکہ خود امریکہ شدید اندرونی بحرانوں کا شکار ہے۔ اسی طرح اسرائیل کو بھی سنگین داخلی بحران، بڑھتی ہوئی سماجی اور سیاسی تقسیم کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل میں اندرونی تناؤ اور بحران کی شدت ایران کے داخلی حالات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جبکہ ایران نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ مختلف بحرانوں کو مضبوط حکمت عملی کے ساتھ سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

علی حمیہ نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی اقدام کے علاقائی اثرات اتنے وسیع ہوسکتے ہیں کہ انہیں کسی کے لیے بھی کنٹرول کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha