26 جنوری 2026 - 14:08
ڈنمارک گرین لینڈ کے دفاع کے لئے 'شوٹ فرسٹ' کے قانون پر عمل کرے گا

گرین لینڈ کے خلاف امریکی دھمکیوں کی عین موقع پر ڈینش فورسز 1952 کے قانون پر عمل کریں گی جو ان کو پابند بناتا ہے کہ بیرونی جارحیت کی صورت میں سرکاری اور فوجی حکم کا انتظار کئے بغیر، دفاعی اقدامات کریں؛ پہلے گولی مارو پھر حکم وصول کرو۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اطلاعات کے مطابق، ڈنمارک کی وزارت دفاع نے اس قانون کو ایک بار پھر معتبر اور نافذ العمل قرار دیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا پر جارحیت کے بعد گرین لینڈ کو امریکہ میں ضم کرنے کی خواہش کو شدت سے دہرایا ہے، جو ڈنمارک کی عملداری میں آتا ہے اور ڈنمارک نیٹو کا رکن ملک ہے۔

اگرچہ امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کے حوالے سے امریکی دھمکیوں کا مطلب قریب الوقوع حملہ نہیں ہے تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ (Karoline Leavitt) نے منگل کے روز کہا تھا کہ "فوجی اقدام ہمیشہ ایک آپشن رہے گا"۔

یہ صورت حال ایسے حال میں سامنے آ رہی ہے کہ وینزویلا پر حالیہ امریکی جارجیت کے بعد گرین لینڈ کے حوالے سے امریکی موقف نے امریکہ کے یورپی اتحادیوں کو سخت فکرمند کیا ہے اور فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فرانس گرین لینڈ ہتھیانے کے لئے امریکہ کے ممکنہ اقدام کی صورت میں یورپی رد عمل کی نوعیت کے تعین کے سلسلے میں اپنے شرکاء کی ساتھ صلاح مشورے کر رہا ہے۔

ڈنمارک گرین لینڈ کے دفاع کے لئے 'شوٹ فرسٹ' کے قانون پر عمل کرے گا

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیٹو کے ایک رکن ملک کی طرف سے دوسرے رکن ملک پر حملہ ایک ایسا واقعہ ہے جو امریکہ کی قیادت میں قائم اس علاقائی تنظیم کا مکمل خاتمہ کرے گا۔

سابق فرانسیسی وزیر اعظم ڈومینک ڈی ویلپین (Dominique de Villepin) نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی وجہ سے، امریکہ نیٹو کے رکن یورپی ممالک کا دشمن بن جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha