بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جرمن صدر فرینک والٹر اسٹین میئر نے ٹرمپ کی صدارت میں امریکی خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید کی اور دنیا سے مطالبہ کیا کہ "عالمی ترتیب کو "چوروں کا گھونسلا" نہ بننے دے۔"
اسٹین میئر ـ جو کسی وقت جرمنی کے وزیر خارجہ بھی تھے ـ نے دوٹوک الفاظ میں وینزویلا کے صدر نکلوس مادورو کے اغوا جیسے امریکی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا: "جمہوریت اور عالمی ترتیب کو بے مثال طریق سے نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔"
اگرچہ جرمن صدر کا کردار صرف علامتی اور غیر انتظامی ہے لیکن یہی خصوصیت اس کو اس ملک کے دوسرے سیاستدانوں کے مقابلے میں زیادہ آزادی عطا کرتی ہے، اور روئٹرز نے کہا ہے کہ "مائر کا موقف وزنی ہے۔"
میئر نے کریمیہ کے روس سے الحاق اور یوکرین پر روسی حملے کو ایک تاریخی موڑ قرار دیا اور کہا: "وینزویلا کے خلاف امریکی اقدام دوسری تاریخی دراڑ ہے۔"
میئر نے کہا: "ریاستہائے متحدہ ہمارا اہم ترین شریک ہے جس نے عالمی ترتیب کے قیام میں مدد کی تھی، اور آج اسی کے ہاتھوں اقدار کی شکست و ریخت بالکل واضح ہے۔"
انھوں نے کہا: "آج کا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کو چوروں کا گھونسلا نہ بننے دیا جائے؛ جہاں بداخلاق ترین لوگ جو چاہیں اٹھا کر لے جائیں، اور کچھ علاقوں یا پورے پورے ممالک کے ساتھ بڑی طاقتوں کے اثاثوں جیسا سلوک کیا جاتا رہے۔"
میئر نے خطرناک حالات میں مداخلت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا: "برازیل اور ہندوستان جیسے ممالک ان حالات میں عالمی ترتیب کی حمایت کریں۔
جرمن صدر نے ایسے حال میں یہ موقف اپنایا ہے کہ وینزویلا کی سرزمین پر امریکی جارحیت اور اس ملک کے صدر نکولس مادورو کے اغوا کے بعد، ڈنمارک کے جزیرے "گرین لینڈ" پر ٹرمپ کی للچائی ہوئی نظریں ایک بار لگ گئی ہیں اور یہ امکان پایا جاتا ہے کہ وہ اس جزیرے کو ہتھیا لے اور اس امکان نے یورپی ممالک کو فکرمند کر دیا ہے اور وہ اس سے نمٹنے کے لئے میکانزم کی تیاری میں مصروف ہو گئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ