اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ مزاحمتی فورسز نے دشمن کی پیش قدمی کو مختلف محاذوں پر روک کر اس کے توسیع پسندانہ اور جارحانہ منصوبوں کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صہیونی فوج کو شدید دباؤ اور غیر متوقع مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
المنار ٹی وی پر اپنے پیغام میں حزب اللہ کے سربراہ نے مجاہدین اور زخمی ہونے والے جانبازوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں وطن اور عوام کے دفاع کے لیے بے مثال قربانیاں دیں، جو آئندہ نسلوں کے لیے باعثِ افتخار رہیں گی۔ انہوں نے حضرت ابوالفضل العباسؑ اور رہبر انقلاب اسلامی امام سید علی خامنہای کو مزاحمت کا روشن نمونہ قرار دیا۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ آج امتِ مسلمہ کو امریکہ، مغربی طاقتوں اور صہیونی رژیم کی قیادت میں ایک بڑے اور فیصلہ کن معرکے کا سامنا ہے، تاہم حزب اللہ کے مجاہدین اور لبنانی عوام نے ثابت کیا ہے کہ وہ دباؤ، جارحیت اور سازشوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد لبنانی عوام اپنی زمینوں کی طرف واپس لوٹے تاکہ ایمان، عزم اور جانفشانی کے ساتھ اپنے وطن کا دفاع جاری رکھ سکیں۔ ان کے مطابق، مزاحمت نے لبنان پر قبضے کے دائرے کو وسعت دینے اور نئے مشرقِ وسطیٰ سے متعلق امریکی منصوبے کو ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ تمام تر قربانیوں اور مشکلات کے باوجود مزاحمت کے ذریعے طاقت کا توازن تبدیل ہوگا، اور جیسا کہ شہید سید حسن نصراللہ نے ہمیشہ کہا تھا کہ مزاحمت کے راستے میں فتح ہو یا شہادت، دونوں صورتیں کامیابی کی علامت ہیں۔
آپ کا تبصرہ