اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، وینزویلا کی عبوری صدر دلسی روڈریگز نے اپوزیشن سے مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد میں ایک دوسرے سے بات کرنا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا میں امن ایسا معاملہ ہے جس پر تمام فریقوں کو متفق ہونا چاہیے۔
دلسی روڈریگز، جو نئے انتخابات کے انعقاد تک ممکنہ طور پر چھ ماہ تک عبوری صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیں گی، نے کہا: ’’ہمیں اپنے اختلافات کے باوجود ایک میز پر بیٹھنا ہوگا اور کسی نتیجے تک پہنچنا ہوگا، کیونکہ یہی وینزویلا کے عوام کے مفاد میں ہے۔‘‘
ادھر جمعے کے روز صدر نکولس مادورو کے ہزاروں حامیوں نے دارالحکومت کاراکاس اور ملک کے دیگر شہروں میں ایک بار پھر مظاہرے کیے، جن میں اغوا کیے گئے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔
اسی روز دلسی روڈریگز نے قومی اسمبلی کے صدر اور اپنے بھائی خورخے روڈریگز سے مطالبہ کیا کہ ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں اور دھڑوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا جائے، تاکہ ایسا مکالمہ شروع ہو سکے جو فوری اور عملی نتائج تک پہنچے۔
انہوں نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں واضح کیا کہ وینزویلا کو ایسے سیاسی مکالمے کی ضرورت ہے جو بیرونی طاقتوں کے دباؤ سے آزاد ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات واشنگٹن، بوگوٹا یا میڈرڈ کے احکامات کے تابع نہیں ہونے چاہئیں بلکہ مکمل طور پر وینزویلا کے قومی مفادات کے تحت ہونے چاہئیں۔
آپ کا تبصرہ