اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران میں بدامنی کی مبالغہ آرائی اور گمراہ کن تصویر کشی کو مسترد کرتے ہوئے، ملک ہندوستان میں رہبر انقلاب اسلامی کے نمائندے ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران میں حالات مستحکم، کنٹرول میں ہیں اور سوشل میڈیا پراجیکٹ کے ذریعے سوشل میڈیا پر مہم جوئی کو دور کیا جا رہا ہے۔
ایران میں بدامنی سے متعلق مبالغہ آرائی اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے، ہندوستان میں رہبرِ انقلابِ اسلامی کے نمائندے حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے واضح کیا ہے کہ ایران میں حالات مکمل طور پر مستحکم اور قابو میں ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی منفی مہمات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے زمینی حقائق اور صحافیوں، مخالف قوتوں اور ایران دشمن عناصر کی جانب سے پیش کیے جانے والے بیانیے کے درمیان واضح فرق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر جو تصویر پیش کی جا رہی ہے، وہ ایران کے اندرونی حالات کی حقیقی عکاسی نہیں کرتی۔
ان کا کہنا تھا: “حقیقت اور تخیل کے درمیان گہرا فرق ہے، اور جو کچھ عالمی میڈیا میں گردش کر رہا ہے وہ ایران کی اصل صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتا۔”
اقتصادی مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے ڈاکٹر حکیم الٰہی نے واضح کیا کہ یہ مسائل کسی اندرونی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایران کے خلاف جاری منظم اقتصادی جنگ کا براہِ راست اثر ہیں۔
انہوں نے کہا: “یہ درست ہے کہ ہمیں معاشی چیلنجز کا سامنا ہے اور کچھ لوگ اس صورتحال سے نالاں ہیں، مگر یہ مسائل مغربی طاقتوں کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کا نتیجہ ہیں۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ ان معاشی دباؤ کو بعض مفاد پرست عناصر دانستہ طور پر استعمال کر رہے ہیں تاکہ ملک میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے اور اپنے سیاسی مقاصد حاصل کیے جائیں۔ ان کے مطابق، محدود اور انفرادی احتجاجی واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ ملک گیر بدامنی کا جھوٹا تاثر دیا جا سکے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے خطرناک اور تشویشناک دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ڈاکٹر حکیم الٰہی نے کہا کہ ایران کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔
انہوں نے واضح کیا: “اس وقت حالات بہت بہتر، مستحکم اور کنٹرول میں ہیں، اور سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے دعوے زمینی حقیقت کے قریب بھی نہیں ہیں۔”
واضح رہے کہ نمائندے ولی فقیہ ہند کے یہ بیانات اس بین الاقوامی بیانیے کو چیلنج کرتے ہیں جس میں ایران کو بحران کے دہانے پر دکھایا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، یہ سب ایک منظم نفسیاتی اور اطلاعاتی جنگ کا حصہ ہے جس کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کو غیر مستحکم اور غیر قانونی ثابت کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سخت پابندیوں اور بیرونی دباؤ کے باوجود ایران استحکام، نظم و ضبط اور عوامی مزاحمت کے ساتھ اپنے امور انجام دے رہا ہے، جو بیرونِ ملک پھیلائی جانے والی مسخ شدہ تصاویر کے بالکل برعکس ہے۔
آپ کا تبصرہ