17 اپریل 2010 - 19:30

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک کمیٹی نے سابق طالبان وزیر خارجہ وکیل احمد متوکل سمیت پانچ سابق افغان طالبان اہلکاروں پر عائد پاپندیاں اٹھا لی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سفارتکاروں کے مطابق اس اقدام کا مقصد ان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے سلسلے کو آگے بڑھانا ہے جو شدت پسندی کا راستہ ترک کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جن سابق طالبان اہلکاروں پر سے پابندیاں ہٹائی گئی ہیں ان میں طالبان کے وزیر خارجہ وکیل احمد متوکل، ایک اور سابق اہلکار اور اس وقت صوبہ ارزگان کے گورنر عبدالحکیم مونب، فضل محمد فیضان، شمس الصفا امین زئی اور محمد موسیٰ ہوتک شامل ہیں۔نیویارک سے اقوام متحدہ کے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ پیر کے روز کیا گیا۔ جس کے مطابق ان پانچ سینئر طالبان رہنماؤں پر لگی سفری پابندیاں ختم اور انکے منجمد اثاثے بحال کردیے جائیں۔ اقوام متحدہ نے ایک قرارداد کے تحت طالبان اور القاعدہ سے وابستہ افراد اور اداروں کی بلیک لسٹ جاری کی تھی۔ جس میں پانچ سو نام شامل تھے۔ ان میں افغان انتہاپسند گروپ سے وابستہ 142 نام بھی شامل تھے۔افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ وہ28 جنوری کو ہونے والی لندن کانفرنس میں کچھ طالبان کے نام اس سے نکلوانے کا مطالبہ کریں گے۔یہ کرزائی کے اس مجوزہ منصوبے کا حصہ ہے جو وہ کانفرنس میں پیش کریں گے۔کرزائی کی مجوزہ نئی حکمت عملی کے تحت طالبان سے مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا اور شدت پسندوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے ہتھیار ڈالنے کے بدلے ملازمت اور رقم کی پیشکش کی جائے گی۔