اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یہ دورہ اسرائیل کے لیے صومالی لینڈ کی خودمختاری کے دعوے کو تسلیم کرنے کے بعد ایک اعلیٰ سطحی سرکاری دورہ ہے۔ صومالی لینڈ کے ذرائع نے بتایا کہ ساعر کی اس ملاقات میں باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی گئی، لیکن مذاکرات کی تفصیلات اور کسی ممکنہ معاہدے کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس دورے پر ابھی تک کوئی رسمی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اس دورے کو تل ابیب کی جانب سے شاخِ افریقا میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، حالانکہ بین الاقوامی سطح پر صومالی لینڈ کو اب بھی صومالیہ کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے اور اسرائیل کی جانب سے اس کی خودمختاری کو تسلیم کرنے پر عالمی سطح پر تنقید بھی ہوئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس دورے سے خطے میں کشیدگی اور سیاسی چیلنجز میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ بحرِ احمر کے نزدیک اہم آبی گزرگاہوں کے قریب اسرائیل کے اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
آپ کا تبصرہ