6 جنوری 2026 - 09:02
مآخذ: سچ خبریں
عراقی پارلیمنٹ میں صدر کے انتخاب کا طریقہ کار کیا ہے؟

عراق میں صدر کے انتخاب کا عمل آئین اور سیاسی مفاہمت دونوں پر مبنی ہے اور اس میں پارلمان کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، عراق میں صدر کے انتخاب کا عمل آئین اور سیاسی مفاہمت دونوں پر مبنی ہے اور اس میں پارلمان کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔ عراقی پارلمان سب سے پہلے صدر کے انتخاب کے لیے ایک خصوصی اجلاس بلاتا ہے جس کے قانونی طور پر منعقد ہونے کے لیے ارکان کی دو تہائی تعداد کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔ اگر یہ نصاب پورا نہ ہو تو اجلاس مؤخر ہو سکتا ہے اور پورا عمل تعطل کا شکار ہو جاتا ہے۔

آئینی طریقہ کار کے مطابق پہلے مرحلے میں صدر کے امیدوار کو پارلمان میں موجود ارکان کے دو تہائی ووٹ حاصل کرنا ہوتے ہیں۔ اگر کوئی امیدوار پہلے مرحلے میں یہ اکثریت حاصل نہ کر سکے تو پھر دوسرا مرحلہ منعقد کیا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں وہ دو امیدوار آمنے سامنے ہوتے ہیں جنہوں نے پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہوں۔ اس مرحلے میں سادہ اکثریت کافی ہوتی ہے اور جو امیدوار زیادہ ووٹ لے لے وہ صدر منتخب ہو جاتا ہے۔

صدر کے انتخاب کے بعد وہ آئینی حلف اٹھاتا ہے اور باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالتا ہے۔ عراق میں صدر کی مدت چار سال ہوتی ہے اور اسے صرف ایک بار دوبارہ منتخب کیا جا سکتا ہے۔ عملی طور پر اگرچہ آئین میں ووٹنگ کے مراحل واضح ہیں لیکن حقیقت میں یہ عمل سیاسی سمجھوتوں اور باہمی اتفاق رائے سے جڑا ہوتا ہے۔

عرف عام کے مطابق دو ہزار تین کے بعد سے عراق میں اعلیٰ ریاستی مناصب نسلی اور سیاسی توازن کے تحت تقسیم کیے گئے ہیں۔ صدر کا منصب کردوں کے حصے میں آتا ہے وزیر اعظم شیعہ اکثریت سے اور پارلمان کے اسپیکر کا عہدہ سنیوں کو دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے صدر کے انتخاب سے قبل کرد سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

اکثر اوقات کرد جماعتوں کے درمیان اختلافات صدر کے انتخاب میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں کیونکہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے نہ صرف کرد ووٹ بلکہ دیگر سیاسی بلاکس کی حمایت بھی ضروری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی رقابتیں اس عمل کو پیچیدہ بنا دیتی ہیں اور بعض اوقات پارلمان میں بار بار اجلاس ملتوی کرنا پڑتے ہیں۔

صدر کے انتخاب کے بعد اگلا اہم مرحلہ حکومت کی تشکیل کا ہوتا ہے۔ آئین کے مطابق صدر منتخب ہونے کے بعد تیس دن کے اندر پارلمان کی سب سے بڑی جماعت یا اتحاد کے نامزد امیدوار کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپتا ہے۔ اس کے بعد وزیر اعظم نامزد کابینہ تشکیل دیتا ہے جسے پارلمان سے اعتماد کا ووٹ لینا ہوتا ہے۔ اس طرح صدر کا انتخاب نہ صرف ایک علامتی منصب کی تکمیل ہے بلکہ پورے سیاسی عمل کے آگے بڑھنے کی کنجی بھی سمجھا جاتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha