1 جنوری 2026 - 15:18
خواتین کی یہ شماریاتی مسکراہٹیں، جھوٹ بولتی ہیں

جہاں خواتین کی ان شماریاتی مسکراہٹوں کو ریکارڈ کیا جاتا ہے، وہیں ڈیٹا کے آس پاس کچھ علامات نظر آتی ہیں جو اس تصویر سے متصادم ہیں۔

ببین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || زیادہ تر سرکاری رپورٹوں میں، مغربی خواتین مردوں کے مقابلے میں "زیادہ خوش" ہیں۔ یہ اعدادوشمار کہتے ہیں، اشاریے اس کی تصدیق کرتے ہیں، اور پالیسی ساز اس کو فخریہ انداز سے دہراتے ہیں۔ لیکن جہاں خواتین کی ان شماریاتی مسکراہٹوں کو ریکارڈ کیا جاتا ہے، وہیں ڈیٹا کے آس پاس کچھ علامات نظر آتی ہیں جو اس تصویر سے متصادم ہیں۔

مشہور مضمون "خواتین کی خوشی کا تضاد" (The Female Happiness Paradox) جو Journal of Population Economics میں شائع ہؤا، عیاں کرتا ہے کہ خواتین جہاں زندگی سے زیادہ اطمیناد رپورٹ کرتی ہیں، وہیں ان کی حالت ڈپریشن، بے چینی اور تنہائی کے اشاریوں کے لحاظ سے مردوں کے مقابلے میں بدتر ہے۔ گویا خوشی کہی جا رہی ہے، لیکن یہ کہنا خود، رنج و صعوبت بن رہا ہوتا ہے۔

کہنے اور ہونے کے درمیان دراڑ

محققین اس تضاد کو محض شماریاتی غلطی نہیں سمجھتے۔ PubMed پر شائع ہونے والی معلومات اور امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ مغرب میں خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ اضطراب اور ڈپریشن کا شکار ہیں اور ان میں نفسیاتی ادویات کا استعمال زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خواتین کے "کہنے" اور "ہونے" کے درمیان ایک فاصلہ پڑ گیا ہے؛ ایسا فاصلہ جس کی جڑ شاید پوشیدہ سماجی دباؤ میں پیوست ہے، نہ کہ ذاتی انتخاب میں۔

خواتین کی یہ شماریاتی مسکراہٹیں، جھوٹ بولتی ہیں

جدید معاشرے کی ہر چیز کی خواہشمند عورت

جدید مغربی عورت کو کامیاب ہوتا دکھانا ہے، آزاد رہتا دکھانا ہے، پرکشش نظر آنا ہے، اچھی ماں بننا ہے، اپنے جسم کا بندوبست کرتے رہنا ہے، اپنے جذبات کو قابو رکرنا ہے، اور ہاں، خوش رہ کر بھی نظر آنا ہے۔ یہ تصویر نہ تو تخیّل کی پیداوار ہے اور نہ ہی براہ راست اس ثقافت کا نتیجہ ہے جو بیک وقت آزادی اور کمال پسندی کا مطالبہ کرتی ہے۔

PubMed اور امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کی طرف سے شائع ہونے والی سماجی نفسیاتی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف النوع کرداروں کا دباؤ خواتین میں دائمی تناؤ کا ایک اہم سبب ہے؛ ایسا تناؤ جو آہستہ آہستہ زندگی کے معیار کو کھوکھلا کر دیتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ خوشی کے اعدادوشمار میں نظر آ جائے۔

ذہنی بوجھ؛ بے نام تھکاوٹ

حالیہ برسوں میں "ذہنی بوجھ" کا تصور تحقیقات کی زبان میں شامل ہؤا ہے۔ یورپی یونیورسٹیوں کی یہ تحقیقات جو arXiv ویب گاہ پر شائع ہوئی ہیں، بتاتی ہیں کہ ظاہری طور پر ایک سطح کے برابر خاندانوں میں بھی منصوبہ بندی، پیروی اور روزمرہ زندگی کے انتظام کی ذمہ داری اب بھی خواتین کے کندھوں پر ہے۔

یہ ان دیکھی تھکاوٹ، دن کے اختتام پر نہ تو کاموں کی فہرست میں نظر آتی ہے اور نہ ہی کامیابیوں (Achievements) میں، لیکن عورت کے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے اور آہستہ آہستہ اسے اندر سے خالی کر دیتی ہے۔

خواتین کی یہ شماریاتی مسکراہٹیں، جھوٹ بولتی ہیں

آزادی ایسی جو تنہا کر دیتی ہے

انتہاپسندانہ انداز سے آزادی کی خواہش ویسے بھی انسان کو تنہا کر دیتی ہے کیونکہ سماجی ـ حتی کہ خاندانی ـ تعلقات بہر حال کچھ پابندیاں ساتھ لاتی ہے، تاہم عمرانیات کے کچھ ماہرین ـ بشمول بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے محققین، ـ کا بھی خیال ہے کہ مغرب میں مستحکم خاندانی تعلقات کے ٹوٹنے نے خواتین کو آزاد کرنے کے بجائے زیادہ تنہا کر دیا ہے۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ طلاق یا غیر مستحکم زندگیوں کے بعد خواتین مردوں کے مقابلے میں غربت، تنہائی اور نفسیاتی نقصان کے زیادہ خطرات سے دوچار رہتی ہیں۔

آزادی، اگرچہ قابل قدر ہے، لیکن جب یہ سماجی حمایت کی جگہ لے لیتی ہے، تو یہ بہت ہی مہنگی پڑتی ہے؛ اور اس طرح کے تنہا لوگوں کو یہ بھاری قیمت اکثر و بیشتر خاموشی سے ادا کرنا پڑتی ہے۔

خواتین کی یہ شماریاتی مسکراہٹیں، جھوٹ بولتی ہیں

خوشی بطور فرض!

شاید خواتین کی خوشی کے تضاد کا سب سے کڑوا پہلو یہی ہے: خوش رہنا ایک فرض بن گیا ہے۔ عورت کو بہرحال خوش ہونا چاہئے، کیونکہ اسے آزادی! حاصل ہے۔ اسے راضی اور خوشنود رہنا چاہئے، کیونکہ اس نے [اس زندگی کا] انتخاب [خود] کیا ہے۔ یہ منطق عورت سے "غم" نہیں منانے دیتی (اور گویا اس سے "غم و اندوہ کا حق" چھین لیتی) ہے اور دکھ اور تکلیف کو اس کی ذاتی ناکامی میں بدل دیتی ہے۔

مضمون "The Female Happiness Paradox" کے محققین بالکل اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہیں: "جب خوشی ایک معیار بن جاتی ہے، تو ناخوشی چھپ کر رہتی ہے اور لا علاج ہو جاتی ہے۔"

خواتین کی یہ شماریاتی مسکراہٹیں، جھوٹ بولتی ہیں

مسئلہ عورت کا نہیں ہے، ساخت کا ہے

آج کل جو کچھ "مغرب میں خواتین کے معیارِ زندگی میں کمی" کے نام پر بیان کیا جا رہا ہے، درحقیقت وہ اس ڈھانچے میں انسانی زندگی کے معیار کی کمزوری ہے جو بااختیار بنانے والے کے بجائے، زیادہ تھکا دینے والا [ڈھانچہ] ہے۔

خواتین نہ تو کمزور تر ہوئی ہیں اور نہ ہی پہلے سے زیادہ لاچار؛ بلکہ انہیں ایک ایسے ماڈل کے دباؤ کے تحت جینا پڑ رہا ہے، جو ان سے ہر چیز ہونے اور بننے کا مطالبہ کرتا ہے، بغیر اس کے کہ اس [ماڈل] نے تھکاوٹ، شک تردد اور رک کر سستا لینے کے لئے کوئی گنجائش چھوڑی ہو۔ خواتین کی خوشی کا تضاد، سب سے بڑھ کر، اس تہذیب کے سامنے ایک آئینہ ہے جو خوشی کو ناپتی ہے، لیکن تکلیف کو نہیں سنتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محترمہ حنان سالمی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha