11 جون 2011 - 19:30

بحرین کے عوامی انقلاب میں خواتین کا کردار ناقابل انکار ہے اور اسی بنا پر آل سعود اور آل خلیفہ خاندانوں کے گماشتے خواتین کو خاص طور پر اپنے جبر و ظلم کا نشانہ بنارہے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے ایک رکن عباس عمران نے انقلاب بحرین میں خواتین کی ناقابل انکار کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بحرین میں آل خلیفہ مطلق العنانیت کے خلاف 14 فروری 2011 سی شروع ہونے والے دھرنوں، ریلیوں، مظاہروں اور جلسے جلوسوں میں خواتین نے بھرپور حصہ لیا ہے اور یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ اس انقلاب میں خواتین کا کردار مرکزی اور تعمیری کردار ہے۔ عباس عمران نے العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بحرین کی خواتین نے معاشرے کے تمام طبقوں کے دوش بدوش تمام انقلابی سرگرمیوں میں شرکت کرکے انقلابی تحریک کو آگے بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے جبکہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد بہم پہنچانے اور اسپتالوں میں خلیفی سعودی فوجیوں کی موجودگی کے باعث اپنے خاندانوں کے زخمی مردوں کو اپنے گھروں میں علاج معالجے کی سہولیات پہنچانے میں خواتین کا کردار منفرد اور اپنی مثال آپ ہے۔ انھوں نے کہا کہ بحرین میں آل خلیفہ اور آل سعود نے شدید ترین، وحشیانہ ترین درندگیوں، تشدد اور انسانی حقوق اور تمام انسانی اور عالمی قوانین و اقدار کی وسیع خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے اور بحرینی خواتین نے اس حوالے سے دستاویزات اکٹھی کرنے اور انٹرنیٹ پر سماجی نیٹ ورکس کے توسط سے انہیں دنیا کے عوام کے سامنے پیش کرنے میں  بھی منفرد کردار ادا کیا ہے۔بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے رکن نے آل خلیفہ کے بادشاہ کی طرف سے عوام کے ساتھ مذاکرات کے دعوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آل خلیفہ حکمرانوں کی طرف سے جبر و تشدد کی کاروائیوں میں کوئی کمی نہیں آئی چنانچہ جبر و تشدد کے سائے میں کسی بھی قسم کے مذاکرات غیر ممکن  ہیں؛ بحرینی عوام اور سیاسی جماعتین خلیفی جرائم کے خاتمے اور آل سعود کے فوری انخلا کے خواہاں  ہیں اور اپنے مطالبات تک پہنچنے کے لئے پرامن جدوجہد جاری رکھنے کے لئے پرعزم  ہیں۔ ادھر بحرین کے انسانی حقوق کے ایک فعال کارکن "جان لوبوک" نے کہا ہے کہ آل خلیفہ اور آل سعود کے غنڈے بحرین میں خواتین کے حقوق پامال کررہے  ہیں اور خواتین کو شدید ترین تشدد کا نشانہ بنا رہے  ہیں۔ اس قانوندان نی ایک رپورت شائع کرکی بحرین میں حقوق نسوان کی وسیع خلاف ورزی سی پردہ اتھایا ہی۔ انہوں نی اپنی رپورت میں لکہا ہی: حکومت مخالف سیاستدان کی زوجات اور افراد خاندان، لیدی داکترز، نرسوں، انسانی حقوق کی شعبی میں سرگرم خواتین، طالبات و استانیوں نیز آل خلیفہ نظام حکومت کی مخالف ادیب و شاعر خواتین آل خلیفہ اور آل سعود کی جبر کا شکار ہونی والی خواتین میں خاص طور پر قابل ذکر  ہیں۔ اس رپورت کی مطابق بحرینی سیاستدان "صلاح الخواجہ" کی اہلیہ "فاطمہ الخواجہ"، انسانی حقوق کی شعبی میں فعال اسیر راہنما اور صلاح الخواجہ کی بہائی "عبدالہادی الخواجہ" کی بیتی "زینب الخواجہ"، بحرین کی عمل اسلامی جمعیت کی راہنما "یاسر الصالح" کی زوجہ "زہرا علی العطیہ" سب کی سب خلیفی نظام کی مخالف سیاستدانوں کی ساتھ تعلق کی بنا پر زیادتی، ہتک حرمت، دہمکیوں، غیر قانونی گرفتاریوں اور تشدد کا نشانہ بنین۔ اس رپورٹ کے مطابق بحرین کی نوجوان اور معترض شاعرہ "آیات القرمزی" [کلک] سمیت متعدد لیڈی ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف کی کارکن خواتین، نرسوں، دانشور خواتین، استانیوں اور معاشرے کے مختلف شعبوں سے وابستھ خواتین کو نہایت غیر انسانی انداز سے گرفتار کیا گیا ہے اور ان میں سے کئی ایک پر آل خلیفہ اور آل سعود کی [مسلمان اور عرب کہلوانے والے غنڈوں کے ہاتھوں ـ عرب اور اسلام کے تمام اقدار کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ـ] جنسی درندگی کا نشانہ بنی  ہیں یا پھر ان پر تشدد اور ٹارچر کی تمام [صہیونی اور امریکی] روشیں آزمائی گئی  ہیں اور انہیں خوف و ہراس سے دوچار کیا گیا ہے اور ان کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق 15 سالہ "ایمان عبدالعزیز العسوامی" بھی خلیفی اذیتکدوں میں قید کاٹ رہی  ہیں اور "رقیہ جاسم ابو رویس" جیسی کئی حاملہ خواتین بھی جیلوں میں بند  ہیں۔ دریں اثناء بحرین کے انسانی حقوق مرکز نے آل خلیفہ نظام حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے "سیداؤ" معاہدے سمیت بین الاقوامی معاہدوں کا پاس رکھے اور ان معاہدوں کی خلاف ورزی سے بازرہے۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت