اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نیتن یاہو اس وقت تین مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جن میں مالی مفادات کے بدلے مثبت میڈیا کوریج حاصل کرنے، تاجروں سے مہنگے تحائف لینا اور سازگار میڈیا کوریج کے لیے مذاکرات کرنے جیسے الزامات شامل ہیں۔ سزا کی صورت میں انہیں قید کا بھی خطرہ ہے۔
ان کے دفتر کے مطابق، نیتن یاہو نے صیہونی حکومت کے صدر کو 111 صفحات پر مشتمل ایک معافی نامہ پیش کیا ہے۔ اس میں انہوں نے کسی جرم کا اعتراف نہیں کیا، نہ ہی حقائق بیان کیے بلکہ صرف موجودہ کشمکش کے ممکنہ نتائج اور عوامی مفاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہ درخواست اب وزارتِ انصاف کے شعبۂ معافی کو بھیج دی گئی ہے جہاں مختلف قانونی محکموں سے رائے حاصل کی جائے گی، اور اس کے بعد صدر کے قانونی مشیر اس پر حتمی سفارش تیار کریں گے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو برسوں سے ان مقدمات سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور غزہ میں جاری جنگ کی طوالت میں بھی اس کی ممکنہ سیاسی اہمیت ہو سکتی ہے، تاکہ وہ اپنی سزاؤں سے بچاؤ کے لیے سیاسی دباؤ برقرار رکھ سکیں۔
آپ کا تبصرہ