اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جنیوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یواین انسانی حقوق کمشنر ووالکر ترک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 1,030 فلسطینیوں کو قتل کیا جن میں 233 بچے بھی شامل ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آباد کاروں کے تشدد میں گزشتہ دو سالوں کے دوران اضافہ ہوا ہے، جن کا کوئی جوابدہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ جمعرات کو جنین میں اسرائیلی بارڈر پولیس کے ہاتھوں 2 فلسطینیوں کے سرعام قتل پر صدمے میں ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے طاقت کے غیر قانونی استعمال اور اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے لیے استثنیٰ ختم ہونا چاہیے، فلسطینیوں کےقتل کی آزادانہ، فوری اور مؤثر تحقیقات کی جائیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر(OCHA) کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد بلا روک ٹوک جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر جانی نقصان، املاک کا نقصان اور بے دخلی کے واقعات پیش آرہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک اسرائیلی آباد کاروں کے 1600 سے زیادہ حملوں کے نتیجے میں فلسطینیوں کا شدید جانی و مالی نقصان ہوا ہے، ان حملوں میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1000 سے زیادہ ہے، جن میں سے زیادہ تر جسمانی تشدد، پتھراؤ یا آنسو گیس سے متاثر ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً 700 فلسطینی براہ راست اسرائیلی آباد کاروں کے ہاتھوں زخمی ہوئے جب کہ باقی اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں زخمی ہوئے۔ یہ 700 کی تعداد 2024 میں آباد کاروں کے حملوں میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی نسبت تقریباً دوگنی ہے۔
آپ کا تبصرہ