اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی نے اپنے دورۂ ضلع دادو کے دوران مدرسہ سفینۃ النجات کے پرنسپل علامہ عابد علی عرفانی، میہڑ کی معزز قبائلی شخصیت صدا حسین چانڈیو، محسن علی شیخ سمیت مختلف مذہبی و سماجی رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں میں گزشتہ آٹھ برس سے تالہ بند مرکزی امام بارگاہ اور مسجد کے تنازع اور اس کے حل کے لیے تفصیلی گفتگو کی گئی۔ تمام فریقین نے اس مسئلے کے جلد، پُرامن اور باعزت تصفیے کے لیے عملی تعاون اور مثبت کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“مسجد دینِ اسلام کا مرکز ہوتی ہے، قرآن و اہل بیتؑ کی تعلیمات کے فروغ کا سرچشمہ ہے۔ نمازِ باجماعت، اذان، درسِ قرآن، محرم و صفر کی مجالسِ عزا اور سال بھر کی دینی و تربیتی سرگرمیوں کا محور مسجد اور امام بارگاہ ہی ہوتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ اتنے طویل عرصے تک مسجد اور امام بارگاہ کی بندش نہایت افسوسناک اور باعثِ تشویش ہے۔ قبائلی و مذہبی رہنماؤں، علماء کرام اور تمام متعلقہ فریقین کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں، تاکہ عبادت گاہ دوبارہ آباد ہو اور عوام کو دینی ماحول میسر آ سکے۔
علامہ ڈومکی نے ملاقاتوں میں تعاون پر تمام فریقین اور مقامی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ باہمی مشاورت اور مشترکہ کوششوں سے یہ دیرینہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔
اس سے قبل علامہ مقصود علی ڈومکی نے مقامی قبائلی رہنما سردار غلام عباس خان جویا سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ:
“مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور اس کے قائد علامہ راجہ ناصر عباس جعفری ملک میں آئین و قانون کی بالادستی اور اتحاد بین المسلمین کے فروغ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد کر رہے ہیں۔”
آپ کا تبصرہ