علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ منصوبے کا تصور ابتدا ہی سے مسائل سے گھرا ہوا ہے، کیونکہ جنگ کے بعد غزہ کے لیے ایک بیرونی طور پر منظم انتظام کا خاکہ دراصل فلسطینی عوام سے ان کے اپنے امورِ حکومت کا حق چھیننے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعمیرِ نو، سلامتی اور سیاسی نگرانی کو بیرونی قوتوں کے حوالے کرنا ایک نوآبادیاتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔
علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ٹرمپ کا یہ اقدام وقت کے ساتھ فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کو مزید کمزور کرے گا، حالانکہ اس منصوبے کو اسی حق کے تحفظ کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اس منصوبے میں شمولیت اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ جس اقدام کو ابتدا میں غزہ میں ہونے والی نسل کشی کے بعد محض تعمیرِ نو کے ایک محدود فریم ورک کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اب اس کے دائرہ کار کو کھلے عام وسیع کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق منصوبے کے مرکزی سرپرستوں کے بیانات اور مجوزہ منشور ایسے عزائم کی نشاندہی کرتے ہیں جو نہ صرف فلسطین بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں، اور جن میں اقوامِ متحدہ کو یکسر نظرانداز کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی واضح نگرانی کے فقدان اور بورڈ کو دیے جانے والے غیر معمولی اختیارات سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ اس اقدام کا مقصد موجودہ کثیرالجہتی نظام کو کمزور کرنا یا اسے پس منظر میں دھکیلنا ہے۔
علامہ راجا ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے ساتھ اپنا نام جوڑ کر پاکستان عملاً ایک ایسے ڈھانچے کی توثیق کر رہا ہے جو اقوامِ متحدہ کو نظرانداز کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون کی جگہ شخصی سیاسی پلیٹ فارم کو فروغ دیتا ہے، جو خود پاکستان کے دیرینہ مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیر سمیت دیگر اہم عالمی معاملات میں ہمیشہ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی پر زور دیتا آیا ہے، ایسے میں کسی ایسے اقدام کا حصہ بننا ایک واضح تضاد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قلیل المدتی مفادات پر مبنی خارجہ پالیسی فیصلے اکثر دیرپا نقصانات کا باعث بنتے ہیں، اور ایک ایسے منصوبے سے وابستگی اختیار کرنا جو فلسطینی خودمختاری اور اقوامِ متحدہ کے نظام دونوں کو کمزور کرے، پاکستان کی اخلاقی ساکھ اور تزویراتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس پر پاکستان کو مستقبل میں پشیمانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ