اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیتاللہ علی صافی گلپایگانی، جو آیتاللہ محمد تقی بہجت (رح) کی وفات کے بعد ان کے جانشین سمجھے جاتے تھے اور آیت اللہ بہجت کے مقلدین نے بھی ان کی طرف رجوع کیا تھا 99 سال کی عمر میں صوبۂ اصفہان کے شہر "گلپائگان" میں دار فانی کو وداع کہہ گئے.
آیت اللہ شیخ علی گلپائگانی، قم میں مقیم حضرت آیت اللہ العظمی شیخ لطف اللہ صافی گلپائگانی کے بڑے بھائی تھے اور عرصۂ دراز سے علیل اور ہسپتال میں داخل تھے.
گذشتہ روز صبح کے وقت قم میں مقیم مراجع تقلید اور علماء کرام ـ جن میں حضرات آیات وحید خراسانی و شبیری زنجانی ـ بھی شامل تھے آیتاللہ لطفاللہ صافی گلپایگانی کے گھر میں حاضر ہوئے اور مرحوم مرجع تقلید کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا.
حضرت آیت اللہ شیخ علی صافی گلپائگانی کی مختصر سوانح حیات:
حضرت آیت اللہ الحاج شیخ علی صافی در سال 1332 ہجری قمری (1912 یا 1913) کو گلپائگان میں پیدا ہوئے. انھوں نے 18 سال کی عمر تک اپنے والد اور اپنے دانشور ماموں مرحوم «مرحوم حجت الاسلام والمسلمین آخوند ملا ابوالقاسم قطب (رہ)» کے ہاں زانوئے تلمذ تہہ کیا اور پھر قم المقدسہ میں «آیت اللہ آقا میرزا محمد ہمدانی» کے حضور سطح کے دروس پایہ تکمیل تک پہنچائے اور اس کے بعد اپنے دور کے بزرگ اور نامور علماء و مجتہدین ـ جیسے «آیت اللہ حجت کوہکمرہای» اور «آیت اللہ سید حسین بروجردی» ۔ کے ہاں دروس خارج کے مراحل مکمل کئے.
آیت اللہ صافی گلپائگانی نہایت نڈر اور شجاع عالم دین تھے جن کے خطابات و تقاریر نہایت بلیغ تھیں اور چونکہ اپ علم و عمل و اخلاص کا مجموعہ تھے لہذا آپ کی تقاریر نہایت مؤثر ہوا کرتی تھیں. آپ نے رضاخانی گھثن کے دور میں شجاعت و پامردی کے جوہر دکھائے اور آزادی اور عدل و انصاف اور سماجی نظم و ضبط، احیائے حق اور باطل کی سرکوبی کے سلسلے میں پہلوی خاندان کی آمریت و استبداد کے خلاف زبردست جدوجہد کی اور اس کے استعماری آقاؤں کو رسوا کیا اور اس راہ میں آپ نے بے شمار مسائل و مشکلات کا سامنا کیا. اور کئی بار جلاوطن ہوئے.
مرحوم آیت اللہ شیخ علی صافی گلپائگانی جلیل القدر عالم دین تھے چنانچہ آپ نے متعدد کتابین لکھیں جن میں آپ کی درج ذیل کاوشیں سر فہرست تھیں:
ــ العروة الوثقی کی استدلالی شرح
ــ رسالہ عملیہ (توضیح المسائل فارسی زبان میں)
ــ منتخب الاحکام
ــ مناسک حج
ــ وصال کی انتظار میں
ــ المحجة فی تقریرات الحجة (مرحوم آیت اللہ حجت کوہ کمرہ ای کے دروس کی تقریرات)
ــ راز دل (ایک ہزار صفحات پر مشتمل فارسی دیوان اشعار)
ــ الدلالۃ الى من لہ الولایۃ
ــ تاریخ تحول فقہ شیعہ
ــ اصول الفقہ
ــ آیت اللہ بروجردى کے دروس کی تقریرات
زہد اور گمنامی
نکتہ وروں نے ہم کو سکھایا خاص بنو اور عام رہو
محفل محفل صحبت رکھو دُنیا میں گمنام رہو
حضرت آیت اللہ علی صافی علمی اور فقہی لحاظ سے بہت اونچے مقام پر فائز تھے اور تقریبا تمام معاصر علماء کو ان کی علمی و فقہی عظمت کا اعتراف تھا اور پھر مرحوم حضرت آیت اللہ العظمی محمد تقی بہجت جیسی عظیم شخصیت نے ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے مقلدین کو ان کی طرف رجوع کرنے کی وصیت کی تھی مگر آپ عجیب گمنامی میں زندگی بسر کرتے رہے اور زہد و تقوی اور شہرت سے دوری پر کاربند رہے.
تعزیتی پیغامات:
آپ کے بھائی آیت اللہ العظمی حاج شیخ لطف اللہ صافی کا تعزیتی پیغام:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انا للہ و انا اليہ راجعون
بزرگ شخصیت، عالیقدر فقیہ اور ولائی مرجع تقلیدحضرت آيت اللہ العظمي آقاي حاج شيخ علي صافي لقاء اللہ کی طرف سفر کرگئے، جنہوں نے تقریبا ایک صدی کے عرصے تک اسلام کی خدمت کی اور کلمۂ دین کی ترقی کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر کاربندرہے، مختصر یہ کہ وہ حضرت بقيۃ اللہ مولانا المہدي ارواح العالمين لہ الفدا کے مخلص نوکر تھے اور اسی عنوان سے انھوں نے اپنے فرائض سرانجام دیئے.
اس نیک سیرت عالم دین نے رضاخانی آمریت کے زمانے سے اپنے علمی سفر کا آغاز کیا اور سطوح عالیہ تک اپنے آبائی شہر گلپائگان میں تعلیم حاصل کی اور 1349 ہجری کو انھوں نے قم کی جانب ہجرت کی اور بزرگ علماء اور اساتذہ کے دروس میں حاضر ہوئے جو فقہ کی نامور شخصیات ہیں جیسے بزرگ مراجع تقلید مرحوم آيت اللہ العظمي حجت اور مرحوم آيت اللہ العظمي آقاي حاج سيد محمد تقي خوانساري سے فیض حاصل کیا اور جب آیت اللہ العظمی سید حسین بروجردی قم تشریف لائے تو انھوں نے ان کے فقہ اور اصول کے دروس میں شرکت کی اور استفتاء کے اجلاسوں میں باقاعدہ شرکت کیا کرتے تھے اور آیت اللہ العظمی بروجردی ان کی آراء کو خاص توجہ دیا کرتے تھے اور درس و بحث کی محفل میں مشہور و معروف اور جانے پہچانے تھے۔
آپ نے متعدد کتابیں لکھیں جیسے: شرح عروة الوثقي اور اساتذہ کے دروس کی تقریرات ان کی اہم علمی کاوشیں ہیں، باذوق ادیب تھے اور مختلف فضائل سے لیس تھے اور خاص طور پر قرآن مجید کے مفسر تھے اور ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو ایسے فقیہ کے لئے ضروری ہیں اور انھوں نے اپنی حیات شریفہ کے آخری ایام تک محراب و منبر سے مسلمانوں کی ہدایت و راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا اور رضاخان کے