اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی سلسلے میں سرگرم کارکنوں نے کہا ہے کہ سردیوں کے موسم میں صعدہ کے نہتے عوام کا قتل عام اور انہیں خانہ و کاشانہ چھوڑدینے پر مجبور کرکے انہیں بے شمار مشکلات میں ڈالنا سعودی یمنی حکمرانوں کے لئے باعث فخر و اعزاز نہیں ہے۔
سید نبیل عباس
مونٹرال میں اسلامی مرکز کے بانی سید نبیل عباس نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا یمنی اور سعودی فوجوں کی طرف سے شمالی یمن پر کئے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب سے جنگ چھوڑ کر یمن کے تنازعے کے حل میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔
انھوں نے کہا: ہم سعودیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یمن کے تنازعے کے حل میں مدد کرے نہ یہ کہ یمن کے معاملات میں مداخلت کرکے اس ملک کے عوام کے مسائل میں اضافہ کردے!
انھوں نے کہا: مسلمانوں اور عربوں کا اصلی اور بنیادی محاذ غزہ میں صہیونی دشمن کے خلاف ہے اور صعدہ میں محاذ کھول کر مسلمان بھائیوں کا خون بہانا ایک حیرت انگیز مسئلہ ہے۔
سامی عون
کینیڈا کی شاربروک یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر "سامی عون" نے العالم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا: یمن کا مسئلہ اندرونی مسئلہ ہے اور اس کے تمام پہلو اندرونی تضادات سے معرض وجود میں آئے ہیں اور ان تضادات و تنازعات کا ایک سبب یہ ہے کہ یمن کی حکومت قومی تعاون کے لئے مناسب مواقع فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔
عون نے کہا: شیعیان حوثی کے خلاف سرکاری اقدامات نہ صرف یمنی عوام کے لئے مسائل و مشکلات کا باعث بن رہی ہے بلکہ یہ مسائل و مشکلات خلیج فارس کی ریاستوں سمیت تمام عرب ممالک کو متأثر کرکے رکھیں گے۔
مسز اندو انداری
وینزوئلا کی روزنامہ نویس اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن مسز "اندو انداری" نے کہا: یمن اور سعودی عرب ایسے عوام کے خلاف لڑرہے ہیں جو عوامی حاکمیت و اقتدار اور عادلانہ مطالبات کے لئے جدوجہد کررہے ہیں اور یہ جنگ سعودی اور یمنی حکمرانوں کے لئے فخر و مباہات کا باعث نہیں ہے۔
انھوں نے العالم کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: تمام قوموں اور ملتوں کا حق ہے کہ وہ اپنے مقدرات پر حاکمیت برقرار کریں اور قوم اقتدار اعلی کے مالک ہوں اور اپنے ضائع ہونے والے حقوق کے لئے جدوجہد کریں اور شمالی یمن میں سعودی اور یمنی حکومتیں ایسی ہی حق طلب قوت کے خلاف لڑرہے ہیں چنانچہ یہ جنگ ان کے لئے فخر و اعزاز کا باعث نہ ہوگی۔
انھوں نے کہا: صعدہ کے بی گناہ عوام پر فوجی حملے اور ان کے خلاف مسلح فورسز کا استعمال جنگی جرائم اور نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے اور یہ سب کا فرض ہے کہ ان حملوں کی مذمت کریں۔