کتنی خفت کی بات ہے کہ سعودی عرب کے وزیر اعظم نائف بن عبدالعزیز کے بقول سعودی عرب نے 1990 میں عراق کے خلاف امریکیوں کی مدد کے لئے فوج کا بڑا حصہ محاذ پر لے جانے کے بعد پہلی بار اتنی بڑی فوج جنوبی سرحدوں پر تعینات کی ہے مگر یہ طاقتور اور کیل کانٹے سے لیس فوج ابھی تک جبل الدخان کو یمنی مجاہدین سے واپس نہیں لے سکی ہے جبکہ یمن کے اندر جاکر نہتے بچوں اور عورتوں کے قتل میں سعودیوں نے بڑی مہارت دکھائی ہے۔
ویسے تو اردنی فوج کے چھاتہ بردار یونٹ نے جبل الدخان پر اتر کر ایک بار بمشکل اپنی جان لے کر راہ فرار اختیار کی ہے مگر سعودی عبداللہ الحرمین انٹرنیٹ نیٹ ورک کے مطابق ایک بار پھر اردنی عبداللہ کو مدد کے لئے بلایا ہے۔
عجیب دنیا ہے کہ سعودی افواج اردن کی فوج سے بھی زیادہ کمزور ہیں۔
آخر یہ پہلی نہیں بلکہ دوسری بھی نہیں بلکہ تیسری بار ہے کہ سعودی حکومت اسرائیلیوں کو سلامی دینے والی اردنی فوج کو مدد کے لئے بلارہی ہے۔
آپ کو شاید یاد نہ ہو جب 1970 کی دہائی کے آخر میں ایک گروہ نے بیت اللہ الحرام پر قبضہ کیا تھا؛ یہ چھوٹا سا گروہ تین دن تک بیت اللہ اور کعبہ شریف پر قابض رہا مگر سعودی انہیں مسجد سے باہر نہ لاسکے اور سعودی عرب کے اس وقت کے "خادم الحرمین الشریفین" نے اسی وقت کے "خادم الاسرائیل" سے مسلمانوں کا قبلہ چھڑانے کی درخواست کی۔
یمن کے فوجی آئے تو مسجد الحرام پر پانی باندھا گیا اور پانی کو الیکٹرک کرنٹ دیا گیا جس کی وجہ سے حملہ آور یا تو مارے گئے یا پھر بے ہوش ہوکر گرفتار کرلئے گئے۔
جبل الدخان سعودی عرب کے جنوب میں واقع ہے۔ سعودی یمنی افواج کو اپنی سرزمین میں لاکر جبل الدخان کے ذریعے یمنی مجاہدین پر حملے کرواتے تھے۔
یمنی مجاہدین سے بارہا خبردار کیا تھا کہ سعودیوں کو اپنی سرزمین ان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے
آخر کار مجاہدین نے دھمکی دی کہ اگر سعودی باز نہ آئے تو وہ راست اقدام کریں گے
سعودیوں نے ایک نہ سنی بلکہ جبل الدخان سے شیعہ علاقوں پر گولہ باری بھی شروع کردی
چنانچہ مجاہدین نے جبل الدخان پر قبضہ کیا
سعودیوں نے حملے شروع کئے
آپاچی ہیلی کاپٹرز اور ایف 15 طیارے استعمال کئے
اسرائیل سے تحفے طور پر حاصل ہونے والے وھائٹ فاسفورس بم، زہریلے بم اور کیمیاوی بم ـ اور وہ بھی نہتے شہریوں اور بے گھر ہونے والے افراد کے کیمپوں پر ـ استعمال کئےـ
اردنی فوجی استعمال کئے
حملوں کا سلسلہ ایک مہیںے سے جاری ہے مگر جبل الدخان پر مجاہدین کا قبضہ بدستور جاری ہے!!
کچھ روز قبل سعودیوں نے جبل المدود پر قبضے کا جشن منایا اور سعودی نائب وزیر دفاع نے اس قبضے کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کسی بھی جارح شخص کو زندہ نہیں چھوڑے گا مگر دوسرے روز معلوم ہوا کہ سعودی نائب وزیر داخلہ کو کسی نے جھوٹی خبر سنائی تھی!!
سعودی عرب کی افواج کے سینئر افسروں کو چھیاسی سالہ بیمار بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے حضور شرفیابی کی اجازت دی گئی۔
بادشاہ نے آنکھیں کھول کر اپنے ارد گرد "جبل الدخان کے فاتح" جرنیلوں کو دیکھا تو وہ برآشفتہ ہوئے اور انہیں نالائقی کا "غلط الزام" دیا غلط الزام اس لئے کہہ رہا ہوں کہ سعودی عرب کے تن پرور فوجیوں کا جان سے گذرنے والے مجاہدین کے ساتھ موازنہ کیا گیا تھا۔ درست ہے کہ یہ بیچارے فوجی جن میں سے تقریبا ہر ایک کی ایک سے زیادہ بیویاں ہیں اور دولت و سہولیات کی بھی ان کے پاس کمی نہیں ہے، تن پرور اور سست و کاہل ہیں اور کسی کام کے نہیں ہیں لیکن کم کھانے اور کم سونے کی عادت رکھنے والے مجاہدین جو مقدس ہدف کے لئے لڑ رہے ہیں اوربہرصورت اپنے حقوق لینا نہیں، چھیننا چاہتے ہیں، بھی ان بیچاروں کی شکست میں مؤثر ہیں۔
بہرحال سعودی بادشاہ جو وہیل چئیر پر بیٹھ کر جرنیلوں سے ملا تھا غضبناک تھا مگر کہا جاتا ہے کہ سابقہ بادشاہوں کے برعکس یہ بادشاہ ذرا معقول ہے چنانچہ اس نے اپنے جرنیلوں کو حال احوال سنانے کی اجازت دے دی۔
بادشاہ نے رپورٹ سنی تو بربڑا کر بولا:
اچھا تو میں اب ان ننگے پاؤں یمنیوں کو سبق سکھاؤں گا؛
میں ٹیکے لگوا کر اپنے پیروں پر کھڑا ہوجاؤں گا اور جنوبی سرحدوں کا دورہ کروں گا
میں حکم عدولی کرکے جنگ سے بھاگنے والے فوجیوں کو خود سیدھا کروں گا (رپورٹوں کے مطابق متعدد فوجی بھاگ رہے ہیں)
بادشاہ نے مزید کہا: میں بھائی عبداللہ ثانی سے مدد مانگوں گا۔۔۔
گویا کسی نے بیمار بادشاہ کو یہ بتانے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی تھی کہ اردن کے 15 سو شاہی گارڈز نہ صرف سعودی عرب میں خیمہ زن ہیں بلکہ وہ کئی بار شکست کا مزہ بھی چکھ چکے ہیں! بہرحال اب اس بار بادشاہ سلامت نے خود ہی بادشاہ سلامت سے مدد مانگی ہے چلئے آگے آگے دیکھتے ہیں کہ ہوتا ہے کیا؟
مگر میرا خیال ہے کہ جنگ نہ ہو تو بہتر ہے اور سعودی عرب لڑنے اور شرمندہ ہونے کی بجائے صلح صفائی کرواکر سرخرو ہوجائے تو یہ اور بھی بہتر ہے۔ مگر عقل بھی تو بڑی چیز ہے نا جب آپ کی عقل واشنگٹن اور تل ابیب میں بیٹھی ہو اور جنگ و صلح کے احکام وہاں سے صادر ہورہے ہوں تو بیچارے عرب بادشاہوں کا کیا قصور؟ جبکہ Order is Order
اور ہاں یاد آیا! یہ تیسری بھی نہیں چوتھی مرتبہ ہے کہ سعودی بادشاہ عوامی تحریکوں کے خلاف لڑنے کے لئے عرب ممالک کی افواج کو مدد کے لئے بلارہا ہے۔
یہی تین ہی برس قبل جب "حزب اللہ نے غاصب اسرائیل کو 33 روزہ لڑائی میں پہلی بار طعم شکست سے آشنا کیا تو سعودی بادشاہ نے پتہ نہیں کیوں عرب سربراہ اجلاس میں «حزب اللہ کا مقابلہ کرنے کے لئے» عرب افواج کو کاروائی کرنے کی درخواست پیش کی تھی!!! البتہ اس اجلاس میں شامی وفد کے ارکان نے صہیونیوں کو شکست دینے والے مجاہدین کے خلاف عرب افواج کے اقدام کی سعودی درخواست کا جواب دیتے ہوئے کہا: حزب اللہ تو ایک عربی اور مسلم تنظیم ہے جس نے اس دیو کو شکست دی جس سے ہم 60 برس تک شکست کھاتے رہے تھے پھر یہ کیا منطق ہے کہ ہم اپنے دشمن کے دانت کھٹے کرنے والوں کے خلاف متحد ہوجائیں اگر طے یہ ہے عربی افواج متحد ہوجائیں تو وہ "اسرائیل کے خلاف کیوں متحد نہیں ہوتیں؟" بات بڑی خطرناک ہوگئی اور تل ابیب والے آقا کی ناراضگی کا خوف سامنے آیا تو خادم الحرمین الشریفین نے چپ سادھ لی چارہ کار جو کوئی اور نہ تھا!
اور ہاں حوثیوں نے سعودی عرب پر حملہ نہیں کیا انھوں نے ایک متنازعہ پہاڑی پر قبضہ کرلیا ہے جو عارضی قبضہ ہے اور جنگ کے بعد مجاہدین اپنے گھروں کو جائیں گے تو پہاڑ بھی خالی ہوجائے گا اور سعودی عرب نے بھی جبل الدخا