اور دلچسپ بات یہ ہے کہ صہیونی ریاست اپنے ان دہشت گردانہ اقدامات کو کبھی چھپانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتی اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بڑی شیطانی طاقتوں خصوصا امریکہ کی اسے بھر پور حمایت اور پشت پناہی حاصل ہے چنانچہ ایک صہیونی جریدے نے انکشاف کیا ہےکہ صہیونی ریاست نے حماس کے چھے سینئر رہنماؤں کی ٹارگیٹ کلنگ کا پلان بنایا ہے جن میں محمود الزھار کا نام بھی شامل ہے۔صہیونی اخبار ھاآرتص نے نہایت ڈھٹائی کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ حماس کےان چھ رہنماؤں کو ٹارگٹ کلنگ کی فہرست میں شامل کیا گيا ہے جنہوں نے اس تحریک کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔بادی النظر میں دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتاہےکہ صہیونی ریاست نے یہ فہرست حماس پردباؤ ڈالنے کےلئے جاری کی ہے تاکہ حماس قیدیوں کے تبادلے کے سلسلےمیں اپنے مو قف سے پیچھے ہٹ جائے۔جھاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ان اوچھے ہتکنڈوں سے مرعوب ہوکر حماس کی قیادت اپنے مطالبات سے دستبردار ہوجائے گی توایک ایسی بیجا توقع ہے جو حماس کے رہنماؤں سے ہرگز نہیں کی جا سکتی اسلئے کہ صہیونی ریاست اب تک دسیوں فلسطینی رہنماؤں کو ٹارگیٹ کلنگ کانشانہ بنا چکی ہے جسکا فطری نتیجہ حماس کی قیادت اور اس کے ہمدردوں کے عزم اور حوصلے بلند ہونے کی شکل میں سامنے آیا ہے ۔لیکن اس درمیان جو چیز افسوسناک نظر آتی ہے وہ عالمی اداروں کی لاتعلقی اور بعض عرب اور اسلامی ملکوں کی بے حسی اور بےبسی ہے کہ جسکا مشاہدہ پور ی امت مسلمہ کررہی ہے ۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 173314
قدس کی غاصب صہیونی ریاست کی ریاستی دہشت گردی اور فلسطینی شخصیات کا قتل ایک ایسی دیرینہ روایت ہے جسکا مشاہدہ دنیا ایک عرصے سے کرتی چلی آرہی ہے.