اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عالمی تنظیموں اور حقوق انسانی کی دعویدار قوتوں کی آنکھوں کے سامنے یمن کے شیعیان اہل بیت (ع) کے قتل عام پر عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی نے ایک مذمتی بیان جاری کیا ہے؛ بیان کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
«ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظالمون» ـ سورہ ابراہیم ـ آیہ 42
اور اللہ کو ان کاموں سے ہرگز بے خبر نہ سمجھنا جو ظالم انجام دے رہے ہیں.
افسوس و الم کا مقام ہے کہ کچھ عرصے سے یمن کے صوبہ صعدہ کے مسلمان ـ مرد و زن اور بچے ـ سازشی قوتوں کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں خاک و خون میں تڑپ رہے ہیں اور انسانی برادری، حکومتوں، بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں سمیت اکثر اسلامی ممالک کی حکومتیں ان دلخراش واقعات و مناظر کے سامنے خاموش تماشائی ہیں.
عالمی برادری کے انفعال اور جمود و بے عملی کی اس صورت حال میں یمنی افواج مختلف حیلوں بہانوں سے ان مظلوموں کے سینوں میں ان کی صداؤں کا گلا گھونٹ دیتی ہیں اور ان کے بچوں کا قتل عام کررہی ہیں یہاں تک کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ قتل عام وسیعتر ہوچکا ہے اور وحشیانہ حملوں میں شدت آئی ہے اور جارحیت، غصب اور قبضے جیسے واقعات رونما ہونے لگے.
ہاں البتہ اس بار قتل عام کا یہ عمل صہیونیوں کے ہاتھوں نہیں بلکہ ایک مسلم پڑوسی حکومت کی جانب سے ہورہا ہے. دشمنان اسلام کے غفلت زدہ دوست اسلامی سرزمینوں میں امریکیوں اور صہیونیوں کا فریب کھا کر ایک مسلم ملت کے حریم پر جارحیت کرکے مظلوم انسانوں کو خاک و خون میں تڑپا رہے ہیں.
یمن کے نہتے مسلمانوں کا قتل عام امریکی صہیونی منصوبہ بندی اور حمایت کے تحت ہورہا ہے اور افسوس کا مقام ہے کہ اس بار مسلمانوں کا قتل عام ایک مسلم حکومت کے ہاتھوں امریکی ساخت کے تباہ کن ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے ہورہا ہے .
افسوس کا مقام ہے کہ یہ افسوسناک اور فتنہ انگیز واقعات حرام مہینے میں رونما ہورہے ہیں جبکہ مسلمانان عالم ان ایام میں فریضۂ حج بجا لارہے ہیں اور ان واقعات کے محرکین اور ان میں ملوث قوتیں خدا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رضا و خوشنودی کو جرائم پیشہ امریکہ کی خوشنودی کے عوض بیچ رہی ہیں.
اس سے بڑا گھاٹا کیا ہوسکتا ہے اور اس سے بڑی نادانی اور جاہلیت کیا ہوسکتی ہے کہ یہ قوتیں امریکہ اور صہیونیوں کے مقاصد پورے کرنے کے لئے بندگان خدا کا بے رحمانہ قتل عام کرتے ہیں اور ان کے گھر ان کے سروں پر ویراں کرتے ہیں!؟
اب جبکہ مسلمان ملتوں، حریت پسند اور بیدار انسانوں سمیت عالم اسلام کے خداترس علمائے کرام ان ہولناک جرائم کی مذمت کرکے صعدہ کے مسلمانوں کا قتل عام فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں عالم اسلام کی رائے عامہ کو نظرانداز کرنا اور عوام کے خلاف تشدد اور فوجی حملے جاری رکھنا بعض مسلم ممالک کے لئے نہایت خوفناک نتائج کا باعث بنے گا.
اس افسوسناک اور المناک صورت حال میں تمام مسلمانوں، علماء اور دانشوروں کا فرض بنتا ہے کہ جلد از جلد اپنی پوری قوت سے آواز اٹھائیں اور اور جارحین کے جرائم کی مذمت کریں. بین الاقوامی اور اسلامی اداروں اور تنظیموں پر بھی فرض ہے کہ وہ ملت یمن پر وحشیانہ حملوں اور بیرون جارحیت کے سامنے خاموش نہ رہیں اور قانونی راستوں سے استفادہ کرکے ملت یمن کی جان و مال اور ناموس و مملکت پر جارحیت جاری رہنے کی مخالفت کریں اور صعدہ کے ستم زدہ مسلمانوں کی حمایت کرکے ان کا ساتھ دیں اور ان کا دفاع کریں.
اسی طرح لازم ہے کہ اسلامی ممالک میں ہلال احمر اور عالمی سطح پر ریڈ کراس کمیٹی سمیت دیگر اسلامی اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں صعدہ کے عوام کو امداد پہنچائیں جو ہر روز بمباریوں اور قتل عام کا نشانہ بن رہے ہیں. ان تنظیموں کو چاہئے کہ صعدہ کے عوام کی سنجیدگی کے ساتھ مدد کریں.
تمام مسلمانان عالم اور حریت پسند انسانوں کو بھی چاہئے کہ اسلامی کانفرنس تنظیم، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عرب لیگ سے مطالبہ کریں کہ وہ جلد از جلد خطے میں جنگ کے خاتمے اور جنگ بندی کے لئے اقدام کریں. اور نقصانات اور جرائم وسیعتر ہونے کا سد باب کریں.
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی اپنی انسانی اور دینی ذمہ داری کے تحت ان المیوں، وحشیانہ جارحیتوں اور غیر انسانی المیوں کی مذمت کرتی ہوئے یمن کے مسلمانوں کے قتل عام کے فوری خاتمے اور جارح افواج کو یمن سے باہر دھکیلنے کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں.
ہمیں امید ہے کہ یمنی حکومت بھی حکمت و تدبیر کے ذریعے اپنے اندرونی مسائل کے حل کے لئے خود ہی اقدام کرے اور اس بات کی اجازت نہ دے کہ اس کے عوام کا قتل عام جاری رہے اور وہ بے بنیاد حیلوں بہانوں کے تحت اپنی خاک میں بیرونی جارحیت کی بھینٹ چڑھتے رہیں.
یمنی حکمرانوں کو صالح علماء، مخلص شخصیات اوردوست اسلامی حکومتوں کے تعاون سے اپنے مسائل پرامن طریقے سے حل کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے اور اسی امن و سلامتی کو اپنے ملک میں لوٹا دینی چاہئے۔
قرآن مجید کا فرمان ہے کہ "جارحین اور متجاوزین جان لیں کی ظلم و ستم کی عاقبت تباہی اور ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور خداوند یکتا مظلومین کی مدد کرے گا.
و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون .
جن لوگوں نے ظلم کیا وہ عنقریب جان لیں گے کہ وہ کونسی پلٹنے کی جگہ پلٹ کر جاتے ہیں۔
والسلام علی عباداللہ الصالحین
مجمع جہانی اہل بیت (ع)