سعودی عرب کے درباری مفتیوں نے اپنے فتووں اور بیانات میں الزام لگایا ہےکہ ایران کے اثرورسوخ کی روک تھام کرنے کے لئے یمن کی الحوثی تحریک کوختم کرنا ضروری ہے۔
آل سعود سے وابستہ درباری مفتی نے بے شرمی کا مظاہرہ کرتےہوئے یہ بھی کہا ہےکہ الحوثی تحریک کے کارکنوں کی عورتوں کو کنیزبنا لیا جائے۔
اس سےقبل بھی سعودی عرب کے درباری مفتیوں نے مذھبی انتھاپسندی کو ہوادینےوالے فتوے جاری کرکے عراق ، پاکستان اور افغانستان میں دہشتگردانہ حملوں میں بے گناہ افراد کے خاک وخون میں غلطاں ہونے کا تماشہ دیکھا تھا اور اس کو اسلام کا نام دیکر امریکہ کے منشاء کے مطابق اسلام کو شدت پسند اور تشدد نواز دین کی حیثیت سے بدنام کرنے کی کوشش کی تھی ۔
امۃ مسلمہ میں سعودی عرب کے وہابی درباری مفتیوں کی فتنہ انگيزی اور اپنے مذموم مقاصد کو مذہب کا رنگ دینا ۔ وہ بھی ایسے عالم میں جبکہ یہ فرقہ نہ اھل سنت کوقبول کرتا ہے نہ اھل تشیع کو ۔ اس کے سامراجی ایجنٹ ہونے میں کسی طرح کا شک شبہ باقی نہیں چھوڑتا۔
یمن میں آل سعود کے جرائم کو جواز فراہم کی کوشش اور یہ دعوے کہ سعودی عرب کی فوج ایران کے اثرورسوخ کا سد باب کرنے یمن میں حملے کررہی ہے ایک ایسا بے بنیاد دعوی ہے جس کو کوئي صاحب عقل و ضمیر انسان بھی قبول نہیں کرسکتا۔
سعودی درباری مفتیوں کے پاس عالم اسلام میں فتنہ انگيزی اور جھوٹے پروپگينڈوں کا کیا جواب ہے؟
یاد رہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ برسوں میں یمن کے تین صوبوں پرقبضہ کرلیا تھا اور اس عرصے میں جب بھی یمن کی جماعتیں متحد ہوکر مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوششیں کرتیں سعودی عرب مداخلت کرکے اور صنعا حکومت پر دباؤ ڈال کریمن میں قومی مصالحت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کرتا۔
اس وقت یمن کی صورتحال ملک میں سیاسی اور معیشتی عدم استحکام پرعوام کے احتجاج کی منہ بولتی تصویر ہے، یمن کے عوام اپنے ملک کے اقتصادی ، سماجی اور معیشتی حالات سے بے حد نالاں ہیں اور ان حالات میں سدھارکے خواہاں ہیں اور یہ کوئي ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ خود یمن کے عوام اور حکومت اسے حل نہ کرسکیں مگر لگتا ہے کہ عالمی صہیونیت نے مشرق وسطی کے حالیہ واقعات کے بعد اپنی طرف سے عالم اسلام کی توجہ ہٹانے کےلئے مسلمانوں میں فتنے پھیلانے کے لئے اپنے ایجنٹوں کو فعال کردیاہے اور اس سلسلےمیں سعودی عرب کے درباری مفتی بڑھ چڑھ کراپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان کو آج جس صورتحال کا سامنا ہے وہ آل سعود سے وابستہ درباری مفتیوں کے شرانگیز فتوؤں اور بیانات کا ہی نتیجہ ہے۔