اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جرمنی کے ایالت بایرن کے قدیمی شہر ریگنسبورگ کی ایک گلی میں شام کے وقت شہریوں اور سماجی کارکنوں نے جمع ہو کر غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرہ کیا۔
تاریخی عمارتوں اور تنگ گلیوں کے درمیان ہونے والا یہ اجتماع انسانی ہمدردی اور یکجہتی کا پرشور منظر بن گیا۔ شرکاء نے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر غزہ کے بھوکے بچوں اور جنگ کے معصوم شہداء کی تصاویر درج تھیں۔ فضا میں بار بار یہ نعرے گونجتے رہے: ’’جنگ بند کرو، غزہ کی آواز سنو‘‘۔
شرکاء نے کہا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی زبان یا مقام کی قید سے بالاتر ہے اور یہ صرف انسانیت و ضمیر کی پکار ہے۔
مظاہرے کے منتظمین میں شامل ایک انجینئر، ابو الحارث (آلمانی نژاد تونسی) نے الجزیرہ سے گفتگو میں بتایا کہ مقصد بایرن کے عوام کو غزہ کی حقیقت سے آگاہ کرنا اور جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرنا ہے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ یورپ میں اسلاموفوبیا اور نسل پرستی کے بڑھنے سے عرب برادری کی شرکت کم ہو رہی ہے۔
الجزیرہ نے ایک مصری نوجوان حسین سے بھی بات کی جو اپنی اہلیہ اور بچے کے ہمراہ شریک ہوا تھا۔ اس نے بھی عربوں کی کم ہوتی موجودگی پر دکھ کا اظہار کیا۔
ایک نوجوان جرمن لڑکی "لو" نے اس موقع پر کہا: ’’غزہ میں اسرائیلی فوج جو کر رہی ہے وہ جنگی جرم اور نسل کشی ہے، اور میں اس کے خلاف خاموش نہیں رہ سکتی۔ میری موجودگی مظلوموں کے ساتھ آواز بلند کرنے کے لیے ہے‘‘۔
اس اجتماع نے ثابت کیا کہ فلسطین کا مسئلہ اب صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ عالمی ضمیر کا سوال بن چکا ہے۔
آپ کا تبصرہ