15 جون 2009 - 19:30

فوجی ماہرین نے کہا ہے کہ سعودی عرب بڑی فورس لے کر یمنی مجاہدین کے چھوٹے سے گروہ پر حملہ آور ہوا تھا مگر اس کے دسیوں افراد ہلاک ہوئے اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے جس سے معلوم ہوتا ہے سعودی افواج کو جنگ کے آغاز ہے میں ہی شکست ہوئی ہے۔

اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے سعودی فوجی طاقت کا حوثی مجاہدین کے ساتھ موانہ کرکے کہا ہے کہ اتنی تعداد میں ہلاکتیں، مالی اور انسانی نقصانات اور کئی افراد کا شیعہ مجاہدین کے ہاتھوں قیدی بن جانا، ثابت کرتا ہے کہ سعودیوں نے بہت جلدی شکست کا مزہ چکھا ہے اور اگر وہ اس سے زیادہ طاقت کا استعمال کرکے اپنی شکست کی تلافی کرنا چاہیں تو انہیں اس سے بھی بڑی ناکامیوں سمیت بین الاقوامی سطح پر رسوائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یمن کے اندر اس وقت سعودی مداخلت نے وسیع رد عمل کھڑا کیا ہے اور سعودی عوام بھی جنوبی علاقے کے تناؤ میں اپنے حکمرانوں کو قصور وار ٹہرا رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ سعودی حکمران باعزت پسپائی کے خواہاں ہیں اور اس سلسلے میں مناسب موقع کی تلاش میں ہیں۔

یادرہے کہ جنگ میں ایک ہی فریق کو نقصان نہیں پہنچتا چنانچہ صرف یمن کے شیعہ نہتے عوام ہی کو نقصان نہیں پہنچا بلکہ سعودی عرب کے سرحدی علاقوں میں بھی سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہورہے ہیں اور یہ مسئلہ اندرونی طور پر سعودی حکمرانوں کے لئے زیادہ خوشائند نہیں ہے۔

بہرحال اس وقت حج کے ایام ہیں اور سعودی عوام حج کے مسائل میں مصروف ہیں چنانچہ یہ صورت حال سعودی حکمرانوں کے لئے بہت مناسب ہے اور اگر غیر منتخب سعودی حکمران ان ہی ایام میں بوری بستر لے کر یمن کی سرزمین سے باہر نہ نکلیں اور مجاہدین کے خلاف اپنے حملے جاری رکھیں تو حج کے بعد وسیع عوامی رد عمل اس ملک کے اندر بھی خانہ جنگی کا باعث ہوسکتا ہے اور شاید اس صورت میں سعودیوں کو یمنی حکمرانوں سے مدد مانگنی پڑے جبکہ یمن کے شکست خوردہ حکمران تو مدد کرنے کے قابل ہیں نہیں چنانچہ امریکہ ہی کو شاید ایک بار پھر امریکہ ہی کو حجاز کی مقدس سرزمین پر اس بار سعودی عوام کی سرکوبی کے لئے بلانا پڑے کیونکہ صدام تو رہا نہیں کہ بیرونی جارحیت کا بہانہ بنا کر امریکی افواج کی تعیناتی کا اہتمام کیا جاسکے!!