15 جون 2009 - 19:30

طالبان نے پاکستان کو افغانستان یا عراق بنانے کی دھمکیاں دی ہیں.

ذرائع کے مطابق رات گئے شدت پسندوں نے تحصیل بائیزئی میں قائم بید منی چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 2سیکورٹی اہلکار جاں بحق اور2 زخمی ہوگئے ۔ سیکورٹی فورسز کی جوابی کار روائی میں 9نو عسکریت پسند ہلاک اور 13 زخمی ہوئے ۔ 3 شدت پسندگرفتار کر لئے گئے ۔ لکڑ و میں سیکورٹی فورسز کی گاڑ ی پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے سے 2اہلکار زخمی ہوگئے ۔

ھر جنوبی وزیرستان آپریشن راہ نجات کے دوران سیکورٹی فورسز کاجنوبی وزیر ستان کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے ۔ اس دوران شکئی سے ملحقہ علاقوں چلوستی اور سروک میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں سے سیکیورٹی فورسز نے بڑ ی مقدار میں بھاری اسلحہ اور گولہ برآمد کر کے قبضے میں لے لیا ہے ۔

باجوڑ ایجنسی کی تحصیل چہارمنگ میں سیکورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیئے ۔ جبکہ غیر ملکیوں اور مطلوب افراد کی تلاش میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

آئی جی صوبہ سرحد ملک نوید نے کہا ہے کہ حیات آباد اور سوئیکارنوچوک بم دھماکوں میں ملوث دہشت گردوں کے سرغنہ کو گرفتارکرلیا گیا ہے۔

پولیس اور دیگر اداروں کے موثر سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے جنوبی وزیرستان آپریشن کے ردعمل کی جس طرح توقع کی جارہی تھی وہ نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے تعاون سے تعلیمی اداروں کی سیکورٹی کے لئے جامع انتظامات کئے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مالا کنڈ ڈویژن میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے پولیس کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہ نجات کے دوران مزید انیس شدت پسندوں کو ہلاک کردیاگیا جبکہ چھ اہلکار جاں بحق اور بیس زخمی ہوگئے۔

سیکورٹی فورسز نے کوٹ کئی سے سراروغہ جانے والی سڑک کا بڑا علاقہ کلیئر کردیاہے۔انزار کلے کے علاقے میں پہاڑیوں پر بھی فورسز نے پوزیشن سنبھال لی ہے۔

فورسز نے گالے گئی گاؤں کا کنٹرول بھی سنبھا ل لیا ہے۔جل وسطی کے علاقے سے بھاری تعداد میں اسلحہ برامد کی گیا ہے۔

موٹروے سے گرفتار مبینہ دہشت گرد شہزاد خان نے دوران تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں۔اکیس سالہ شہزاد خان نے دوران تفتیش بتایا کہ وہ پشاور کے علاقے ترنول کا رہائشی اور ویگن ڈرائیور ہے اس کے والد کا نام حیات خان ہے جو چنے فروخت کرتا ہے۔  چند روز پہلے حاجی کیمپ کے قریب بس اسٹیڈ پر اسے انور خان نامی ایک شخص ملا جس نے اپنے دوست حاجی سے اس کی ملاقات کرائی۔ حاجی نے دس ہزار روپے کے عوض اسے کار نمبر بی اے بارہ تینتیس فیصل آباد پہنچانے کی پیشکش کی۔

ہنگو کے گاؤں تورا وڑی میں اتوار اور پیر کی درمیانی رات تقریبا ً3 بجے سو سے زائد شدت پسندوں نے بھاری ہتھیاروں سے سیکورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔ پولیس آفیسر میر چمن خان نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کر کے شدت پسندوں کا حملہ پسپا کر دیا اس دوران جھڑپ میں 2 سیکورٹی اہلکار جاں بحق اور 4 زخمی ہو گئے جبکہ 15 شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ۔ سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں شدت پسند بھاگ نکلے۔ انہوںنے کہاکہ جھڑپ کے دوران دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا جھڑپ کے بعد سیکورٹی فورسز کی جانب سے شدت پسندوں کے مختلف ٹھکانوں پر بھاری توپخانے سے ان کے دو ٹھکانے تباہ کر دئیے گئے۔

ادھر باجوڑ ایجنسی کے گاؤں مٹک میں شدت پسندوں نے ایک سیکورٹی چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا ۔ مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار سید غلام رسول کے مطابق حملے میں 4 اہلکار جاں بحق ہو گئے ۔ سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 7 شدت پسند ہلاک بھی ہوئے ہیں ۔دریں اثناء باجوڑ کے مین شہر خار اور ملحقہ گاؤں صادق آباد میں بھی شدت پسندوں نے چیک پوسٹوں پر حملے کئے جس میں کم از کم 3 سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں ۔

ادھر جنوبی جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہ نجات جاری ہے اور شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری، گن شپ ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ اور بھاری توپخانے سے گولہ باری کی جا رہی ہے ۔ کو ٹ کئی کے علاقوں سراخاورہ ، بدر چلو شتی ، شکئی ، شین وام کے علاوہ تحصیل لدھا ، سراروغہ اور مکین میں فورسز کی تازہ کارروائی میں مزید 15 شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ کارروائی میں شدت پسندوں کے کئی ٹھکانے بھی تباہ ہو گئے ۔ ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز نے ان علاقوں میں اہم ٹھکانوں پر قبضہ بھی کر لیا ہے۔

دریں اثناء کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے نا معلوم مقام سے امریکی خبر رساں ادارے سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ آپریشن ’’راہ نجات ‘‘میں طالبان کو بھاری نقصان پہنچا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرستان میں طالبان کو کوئی خاص نقصان نہیں ہوا ہے ۔ انہوںنے دھمکی دی کہ اگر فوج نے وزیرستان میں آپریشن بندنہ کیا تو ملک بھر میں حملے کئے جائیں گے اور پاکستان کو دوسرا افغانستان یا عراق بنا دیا جائے گا۔