اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ کے ایک سیاسی تجزیہ نگار ’’مارک سیلی کودھا ‘‘نے پریس ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں شام میں دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کیلئے ایران اور روس کے درمیان تعاون میں حالیہ اضافے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ نوآموز قدامت پسند امریکی اسلامی جمہوریہ ایران اورروس کے بڑھتے تعلقات سے خوفزدہ ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ روس ایران تعاون سے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی پیداکردہ افراتفری اورتشدد کو ختم کرنے میں مزید مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے ایران اور روس کے جغرافیائی ،سیاسی ،وفوجی تعاون کی سراہنا کرتے ہوئے کہاکہ ایران روس تعاون سے امریکی نوآموز قدامت پسندوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ خوفزدہ ہیں ۔
موصوف تجزیہ نگار نے روس اورایران کے تعاون کو امریکہ وسعودی عرب کی حکومت تبدیلی ،خطے کو غیر مستحکم کر نے اور عراق ،لیبیا ،یمن اورشام کو تباہ کرنے کی معاندانہ پالیسیوں کا براہ راست نتیجہ قراردیا ہے ۔
انہوں نےکہاکہ روس وایران کے تعاون سے شام خاصکر حلب جوکہ دہشتگردوں کے قبضے میں ہے کو آزادکرانے میں مددفراہم ہوگی ۔
انہوں نےکہاکہ شام میں داعش کے خلاف ماسکو کی فوجی مہم امریکی فوجی مہم سے کافی زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہےکیونکہ روس اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت شام میں دہشتگردوں کے خلاف برسرپیکار ہے جبکہ امریکہ نے دہشتگردوں کی حمایت کرکے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاکر شام کے خلاف ایک پراکسی جنگ چھیڑ کر ایک خودمختارریاست پر حملہ کیا ہے۔
امریکی تجزیہ نگار نےمزیدکہاکہ ماسکو نہ صرف داعش کےخلاف جنگ میں مصروف ہے بلکہ وہ شام کے منتخب صدربشارالاسد اوراس ملک کی ارضی سالمیت کا دفاع کررہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲