اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ ابنا۔ 13جولائی 1931کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے حوالے سے حریت کانفرنس اور دیگر مزاحمتی جماعتوں کے پروگرام پر حکومتی قد غن کو آمرانہ سوچ قرار دیتے ہوئے جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور حریت کانفرنس کے سرکردہ رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ 13جولائی 1931کے شہدا پوری قوم کا سرمایہ افتخار ہے حریت پسند قائدین کو انکے مزار پر جانے سے روک کر ریاستی انتظامیہ ان شہدا کی توہین کر رہی ہے اور انکے مشن کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے آغا صاحب نے حریت کانفرنس کے چئیرمین سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ مولوی محمد عمر فاروق کی گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قائدین حریت کو گرفتار کر کے ریاستی انتظامیہ نہتے کشمیری عوام کے خون ناحق سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی آغا صاحب نے کہا کہ سرکاری فورسز کی حالیہ بربریت اور قاتلانہ مہم جوئی سے کشمیری قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے انھوںنے کہا کہ فورسز کے درندانہ طرز عمل کے خلاف عوامی ردعمل کو روکنے کے لئے ریاستی انتظامیہ آرایس ایس کی ہدایت پر عمل پیرا ہے بھارت کشمیریوں کو زیر کرنے کے لئے کسی اور ناگپوری نسخہ کو آزمانے کی تیاری کر رہا ہے دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان تنظیم کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی پانچ روز سے مسلسل خانہ نظر بندی کی پر زور الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے کہا کہ آغا صاحب حریت رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ اہم دینی منصب پر فائز ہیں موصوف کی مسلسل خانہ نظر بندی کے ساتھ ساتھ رہائش گاہ کا محاصرہ عوام کے لئے انتہائی پریشان کن ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲