اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شام کے انتخابی قوانین کے تحت ووٹوں کی گنتی کا عمل پولنگ مکمل ہوتے ہی متعلقہ پولنگ مراکز میں شروع ہو جاتا ہے نگران کمیٹیوں کے ارکان کے سامنے ایک ایک ووٹ دکھا کر اسے گنتی میں شامل کیا جاتا ہے۔ شام کے الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگئی ہے اور حتمی نتائج کے اعلان کے لیے انہیں مرتب کیا جا رہا ہے۔
شام میں بدھ کے روز پارلیمنٹ کی دو سو پچاس نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے جن کے لیے ساڑھے تین ہزار امیداوار میدان میں تھے۔ شام میں پانچ سال سے زیادہ عرصے سے جاری بحران کے باوجود اس ملک کے عوام نے پولنگ میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا جس سے حکومت اور سیاسی نظام کے بارے میں عوام کے رجحان کا پتہ چلتا ہے۔
انتخابات میں شامی عوام کی بھرپور شرکت سے اس بات کی بھی نشاندھی ہوتی ہے کہ صدر بشار اسد کو بدستور عوام کی حمایت حاصل ہے اور شام کے عوام دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں پوری طرح ہشیار اور بیدار ہیں۔
صدر بشار اسد نے بدھ کے روز اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد کہا تھا کہ شام کے عوام نے بیرونی سازشوں کو اچھی طرح بھانپ لیا اور تقدیر ساز مسائل میں بھر پور شرکت ان کی سیاسی بالغ نظری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دوسری جانب شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے ملک میں عبوری حکومت کے قیام کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ مخالفین کی جانب سے عبوری حکومت کے قیام کے مطالبے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تجویز درحقیقت صدر بشار اسد کو اقتدار سے ہٹانے اور حکومت کے خلاف بغاوت کے مترادف ہے اور شام کے عوام ایسے کسی بھی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
شام کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر بشار اسد پچھلے پانچ سال سے جاری بحران کے دور میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہے ہیں اور صرف ترکی اور سعودی عرب ایسے ممالک ہیں جو اپنے مفادات کی خاطر صدر بشار اسد کو اقتدار سے ہٹائے جانے پر زور دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بحران کے حل کی غرض سے جنیوا میں جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے حقیقی اور قابل عمل تجاویز پر غور کرنا ہوگا جن میں ، قومی حکومت یا وسیع البنیاد حکومت کا قیام شامل ہے۔
شام کے نائب وزیر خارجہ نے مذاکرات کے طول پکڑنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین کے درمیان پائے جانے والے اختلافات نے، کسی پائیدار سمجھوتے کے حصول کو ناممکن بنا دیا ہے۔
ادھر شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹیفن ڈی مستورا نے شام کے بارے میں امن مذاکرات کے نئے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے اور جنیوا میں شام مخالفین کی سپریم کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کی ہے۔
اسٹیفن ڈی مستورا نے کہا ہے کہ مذاکرات کے اس دورکا مقصد شام میں عبوری حکومت کے قیام کے بارے میں بات چیت کرنا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ شامی حکومت کا مذاکراتی وفد جمعے کی شام تک جنیوا پہنچ جائے گا۔
شام کے بارے میں مذاکرات کا پچھلا دور چوبیس مارچ دوہزار سولہ کو عبوری حکومت کے قیام کے بارے میں کسی اتفاق رائے کے بغیر ختم ہو گیا تھا۔





