اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایک سال پہلے یعنی ایسے ہی ایک دن (26مارچ 2015) کو سعودی عرب نے ایک گٹھ بندھن کے قالب میں کہ جس کے بارے میں اس کا دعوی تھا کہ اس میں عرب ملک حصے دار ہیں ،بڑے پیمانے پر یمن پر ہوائی حملے کا آغاز کر دیا اور ساتھ ہی سمندر ،زمین اور ہوا سے اس ملک کو محاصرے میں لے لیا ۔
اس اچانک حملے کے پیچھے سعودی عرب کا مقصد منصور ہادی کو جو بھاگ کر سعودی عرب چلا گیا تھا اقتدار پر واپس لانا ،انصار اللہ اور علی عبد اللہ صالح کو حکومت سے الگ کرنا اور یمنیوں کے ہتھیاروں اور بیلیسٹیک میزائلوں کو تباہ کرنا تھا ۔
اس ایک سال میں اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ۶۳۰۰ افراد مارے گئے ہیں اور دسیوں ہزار زخمی ہوئے ہیں ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے ہیں اور ان میں سے بہت ساروں نے ایتھیوپی اور جیبوتی میں پناہ لی ہے ۔ یمن میں انفرا اسٹریکچر نام کی کوئی چیز نہیں بچی ہے اور غذائی مواد کی زبوں حالی ،بھوک اور ایندھن کی کمی اس ملک میں ستم ڈھا رہی ہے ، لیکن نہ منصور ہادی کو حکومت واپس مل پائی ہے اور نہ یمن کے ہتھیار تباہ ہوئے ہیں ۔
اس دوران سعودیوں نے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں وہ بھی اس حالت میں کہ تیل کی قیمت بہت کم ہو چکی ہے اور اس کو بجٹ میں ۹۸ فیصد کا گھاٹا ہوا ہے ۔دوسری جانب سعودیہ والے بھاری سیاسی اخراجات تحمل کرنے پر بھی مجبور ہو گئے ہیں ؛ شروع میں ترکی اور پاکستان نے اور اس کے بعد مصر نے اس جنگ سے کنارہ کشی اختیار کر لی ،اور ایک سال کے بعد اب گٹھبندھن نام کی کوئی چیز نہیں ہے وہ ملک جو ابتدا میں گٹھبندھن میں شامل ہونے پر بے تاب تھے رفتہ رفتہ اب ان کا صرف نام ہی باقی رہ گیا ہے اور اس وقت زمین پر منصور ہادی کی فوجیں لڑ رہی ہیں اور ہوا میں سعودی عرب کے ہوائی جہاز ہیں کہ جو بغیر کسی نشانے کے ہر چیز کو تباہ کر رہے ہیں ۔
دوسرا نکتہ یمن میں سعودی عرب کی طرف سے انسانی حقوق کو پامال کیے جانے پر زبر دست تنقید ہو رہی ہے ۔لچھے دار بمب برسانے کا مسئلہ جس کی وجہ سے سعودی عرب اور امریکہ پر بھی یہ بمب بیچنے کی وجہ سے تنقید ہو رہی ہے ۔
یمن کی فوجوں کی جنگ کرنے کی طاقت
تجزیہ نگاروں کا عقیدہ ہے کہ سعودی عرب کی مخاف فوجوں کے پاس وسایل کی کمی کے باوجود انہوں نے ۲۶ مارچ ۲۰۱۵ سے اب تک سعودیہ کے ہوائی حملوں کا مقابلہ کیا ہے اور منصور ہادی کی حکومت کہ سعودی عرب جس کی حمایت کر رہا ہے اپنی کمزوریاں ظاہر کرنے پر مجبور ہوئی ہے ۔
واشنگٹن میں مشرق وسطی کے تحقیقی مرکز کے تحلیل گر چارل اشمیتز نے فرانس نیوز ایجینسی کو بتایا : کہ موجودہ حالات میں حوثیوں اور عبد اللہ صالح کی فوجیں بڑا درد سر بنی ہوئی ہیں ۔نہ ہوا سے ان کی حمایت ہو رہی ہے اور نہ کہیں سے انہیں ہتھیار مل رہے ہیں لیکن انہوں نے اپنی فوجی طاقت کو بچا کر رکھا ہے ۔
ورسک میل کرافٹ کے تحقیقی مرکز میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے تجزیہ نگار جورڈن پیری کا بھی عقیدہ ہے ؛ انہوں نے زمین پر قبضہ برقرار رکھا ہے اور حکومت کے اصلی اداروں پر ان کا کنٹرول باقی ہے ۔ اس کی نظر میں حوثیوں اور علی عبد اللہ صالح کی کامیابی کی اصلی وجہ گٹھبندھن کی فوجوں میں جنگی ٹیکنیک اور طاقت کی کمی ہے ۔
سویلین افراد کا قتل عام
اب تک بین الاقوامی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق ۶۳۰۰ افراد مارے جا چکے ہیں جن میںسے آدھے غیر فوجی ہیں اور گذشتہ ہفتے انسانی حقوق کے کمیشن کے سربراہ زید بن رعد الحسین نے یمن میں غیر فوجیوں کے قتل کا ذمہ دار گٹھبندھن کو ٹھہرایا اور کہا : اس گٹھبندھن نے حال ہی میں بازاروں ، مدرسوں کارخانوں ، شادی گھروں اور شہروں اور دہیاتوں میں سیکڑوں رہائشی مکانوں کو نشانہ بنایا ہے ۔
غیر فوجیوں کا قتل عام اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ سعودی عرب کے اتحادی امریکہ نے اس سلسلے میں تشویش کا اظہار کیا ہے ۔وہ امریکہ کہ جس پر سعودیہ عربیہ کو ہتھیار فراہم کرنے کی وجہ سے تنقید ہو رہی ہے ۔
بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے ترجمان نے یمن میں دردناک انسانی حالت کے بارے میں بتایا ؛ ہسپتالوں میں دوائیوں کا فقدان ہے ،پانی اور بجلی فراہم کرنے والے مراکز تباہ ہو چکے ہیں غذا اور بنیادی سہولت کی چیزوں جیسے اندھن میں کمی واقع ہوئی ہے ۔
القاعدہ اور داعش جنوب میں
یمن میں سعودیہ کے لیے ایک اور درد سر جنوبی صوبوں خاص کر عدن میں القاعدہ اور داعش کے دہشت گردوں کی قدرت اور ان کے نفوذ میں اضافہ ہے ،وہ دہشت گرد کہ جنہوں نے بد امنی کو غنیمت جانا ہے ۔
دہشت گرد گروہوں نے دھماکے کرنے کے ساتھ سیاسی اور فوجی افراد کو قتل کیا ہے عدن کے قصر جمہوری پر بارہا دہشت گردوں نے حملے کیے ہیں اور منصور ہادی کی فوجیں عدن میں امن قائم نہیں کر پائی ہیں ۔
جنوب میں القاعدہ اور داعش کے دہشت گردوں کے طاقتور ہو جانے کی وجہ سے سعودی عرب کے لیے حالات پیچیدہ ہو گئے ہیں اور امریکہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کرنے کے لیے میدان میں آ گیا ہے ۔
واشنگٹن میں مشرق وسطی کے تجزیہ نگار چارل اشمیتز کا اس سلسلے میں بھی کہنا ہے کہ ؛ سعودیوں کو آزاد شدہ علاقوں کی حفاظت میں منصور ہادی کی طاقت کا اندازہ لگانے میں غلطی ہوئی ہے ۔
مذاکرات صلح
احمد عسیری نے بدھوار کے دن امارات کے اسکائی نیوز چینل کو بتایا :گٹھبندھن والے صلح کے مذاکرات کا استقبال کریں گے ۔
سعودیہ والے ایک سال تک یمن میں سیاسی ، مالی اخراجات کر کے اور یمن میں پھنس جانے کے بعد اس بحران سے عزت کے ساتھ باہر نکلنے کا فٖیصلہ کرنے کی کوشش میں ہیں ۔
جنیوا کی بات چیت اب تک کسی نتیجے تک نہیں پہنچی ہے ، اور ہر بار سعودی اور منصور ہادی شرط رکھتے رہے ہیں کہ حوثی شہروں سے باہر نکل جائیں اور ہتھیار ڈال دیں جس کی وجہ سے ہر بار مذاکرات ناکام ہوجاتے رہے ہیں ۔
لیکن مذاکرات کا نیا دور ،ابراہیم ولد الشیخ کے بقول ۱۸ اپریل کو کویت میں ہونے والا ہے ۔یہ مذاکرات اس کے بعد ہونے والے ہیں کہ اس سے پہلے انصار اللہ اورسعودی حکام کے درمیان مذاکرات سعودیہ کی سرحد پر سرحدی قبایل کی وساطت سے دو ہفتے پہلے ہو چکے ہیں ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے مذاکرات کسی نتیجے تک پہنچیں گے یا نہیں،ان مذاکرات کے ساتھ تجزیہ نگاروں نے بہت امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں ،اس لیے کہ سعودیہ والے اب بحران کو ختم کرنے کے شدت سے طرفدار ہیں ۔
وہ مذاکرات کہ جو اقوام متحدہ کے نمایندے کے بقول : یمن کے بحران سے نکلنے کا آخری موقعہ ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲