اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب کا ایک سرکاری روزنامہ "عکاظ "شیعہ ھراسی کے مقصد کے تحت دعوی کرتا ہے کہ چھ (۶) دینی ایرانی سیٹیلائٹ چینل کہ جو عرب ممالک کے لیے پروگرام نشر کرتے ہیں ان کا مرکز تل ابیب ہے اور ایک بہت بڑی اسرائیلی کمپنی ان کی حمایت کر رہی ہے ۔
عکاظ نے اپنے ادعا میں آگے لکھا ہے : ان چینلوں کے نام ہیں" آل البیت" ،" فدک "،" الحسین" ،" العالمیہ" اور "الغدیر" ، کہ جو اپنے پروگرام آموس نام کے سیٹیلائٹ سے آر ۔آر سیٹ کمپنی کے توسط سے نشر کرتے ہیں ۔
سعودیہ کے ایران کے خلاف لچھے دار جھوٹ نے نوبت یہاں تک پہنچائی ہے کہ وہ اپنے قارئین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کے ہر جھوٹ پر یقین کر لیں ۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ مذکورہ چینل کا اپنا انٹرنیٹ کا صفحہ ہے اور ان سب نے اپنے سیٹیلائٹ ایڈریس اپنی اپنی سایٹ پر لکھ رکھے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی چینل آموس نام کے سیٹیلاٹ کے ذریعے اپنے پروگرام نشر نہیں کرتا اور سچ تو یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی چینل نہ ایرانی ہے اور نہ ہی فارسی زبان میں ہے ۔
اس سعودی روز نامے کی شیعہ چینلوں کو ان کو صہیونی حکومت کی طرف نسبت دے کر بدنام کرنے کی کوشش ایسی حالت میں کی جا رہی ہے کہ جب انور عشقی نے کہ جو سعودیہ کا ریٹائرڈ جنرل ہے اور اس ملک کے بانفوذ حکام میں سے ہے وہ سعودی عرب اور صہیونی حکومت کے درمیان روابط برقرار کرنے کی کھلے عام کوشش کر چکا ہے اور ذرائع ابلاغ میں اس نے نیتنیاہو کو جو غزہ کے بچوں کا قاتل ہے ،ایک طاقتور اور زیرک شخص کے نام سے یاد کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اگر صہیونی حکومت سعودی عرب کے سمجھوتے کے منصوبے کو مان لے تو سعودی عرب فورا تل ابیب میں اپنا سفارت خانہ کھول دے گا ۔
اس سعودی روزنامے نے اپنے عجیب و غریب دعووں کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ شیعوں کے یہ چھ چینل مذہب اہل سنت کو بد نام کرنے کے لیے مختلف قرآن کی تبلیغ کرتے ہیں کہ ان جو لوگوں میں رائج ہے اور اسلامی ممالک میں رائج قرآن سے مختلف ہے ۔
یہ دعوی ایسی صورت میں کیا جا رہا ہے کہ ایران میں رائج اکثر قرآن سعودی شہری عثمان طہٰ کے ہاتھ کے لکھے ہیں اور خط اور تجوید میں بھی دوسرے قرآنوں سے مختلف نہیں ہیں ۔
اس سے پہلے صہیونی حکومت کی یہ کوشش تھی کہ ایران ھراسی کے منصوبے پر عمل کر کے ایران کی ترقی کا مقابلہ کرے لیکن اپنے جوہری پروگرام کے دفاع میں ایرانی ڈیپلومیسی کی کامیابی کے بعد یہ منصوبہ ناکام ہو گیا ۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب سیکینڈ ہینڈ منصوبے کو ہاتھ میں لے کر شیعہ ہراسی کی لکڑی کی تلوار کے ساتھ کچھ کر گذرنے کا قصد رکھتا ہے ،لیکن وہ اس سے غافل ہے کہ ایرانی سالہا پہلے وہ کام کر چکے ہیں ۔
ترسم نہ رسی بہ کعبہ ای اعرابی /کاین رہ کہ تو می روی بہ ترکستان است
مجھے ڈر ہے کہ اے بدو تو کعبہ تک نہیں پہنچ پائے گا اس لیے کہ یہ راستہ جو تو نے اختیار کیا ہے یہ ترکستان کی طرف جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲