5 نومبر 2015 - 10:35
افغان طالبان ایک بار پھر دھڑا بندی کا شکار، اختلافات کھل کر سامنے آگئے

جولائی میں افغان طالبان کے بانی امیر ملا عمر کی ہلاکت کے اعلان کے بعد سے شدت پسند گروپ کی قیادت کا معاملہ اختلافات کا شکار رہا ہے۔ ملا عمر کی جگہ ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا امیر مقرر کیا گیا تھا، تاہم ابتدا میں ملا عمر کے بعض حامیوں کیجانب سے اس فیصلے کی مخالفت کی گئی تھی۔ طالبان کے نئے امیر کے اصل حریف ملا عمر کے بھائی اور بڑے بیٹے تھے، جنھوں نے ملا منصور کی تقرری کے طریقے پر سوالات اُٹھائے تھے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی قیادت کے مسئلے پر اختلافات کی نوعیت بظاہر سنگین ہوگئی ہے اور اب ایک دھڑے نے سابق طالبان گورنر ملا محمد رسول کو اپنا قائد بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق ملا محمد رسول کا انتخاب مغربی افغانستان میں ان کے زیرِ اثر علاقے میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں عمل میں آیا۔ تاہم افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس معاملے پر یہ کہتے ہوئے تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے کہ ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ خیال رہے کہ ملا رسول افغانستان پر طالبان کے دورِ حکومت میں صوبہ نمروز کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی نیابت کے لئے عبدالمنان نیازی، ملا باز محمد، منصور داد اللہ اور شیر محمد اخوندازادہ کے ناموں کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں سے ملا منصور داد اللہ طالبان کے عسکری کمانڈر ملا داد اللہ کے بھائی ہیں اور 2007ء میں داد اللہ کی امریکی اور برطانوی فوجوں کی مشترکہ آپریشن میں ہلاکت کے بعد جنوبی افغانستان میں طالبان کے کمانڈر مقرر کئے گئے تھے۔ ملا عمر کی ہلاکت کے اعلان کے بعد سے شدت پسند گروپ کی قیادت کا معاملہ اختلافات کا شکار رہا ہے۔

ملا محمد رسول کے ایک نائب عبدالمنان نیازی نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی اور جنوبی افغانستان کے متعدد طاقتور کمانڈر ان کے ساتھ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس دھڑے نے افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور پر "لالچی پن" کے الزامات بھی لگائے ہیں۔ خیال رہے کہ ملا برادر کی پاکستان میں گرفتاری کے بعد ملا عمر نے شہری ہوابازی کے سابق وزیر ملا اختر محمد منصور کو اپنی نیابت کی ذمہ داری سونپی تھی۔ جولائی میں افغان طالبان کے بانی امیر ملا عمر کی ہلاکت کے اعلان کے بعد سے شدت پسند گروپ کی قیادت کا معاملہ اختلافات کا شکار رہا ہے۔ ملا عمر کی جگہ ملا اختر منصور کو طالبان کا نیا امیر مقرر کیا گیا تھا، تاہم ابتدا میں ملا عمر کے بعض حامیوں کی جانب سے اس فیصلے کی مخالفت کی گئی تھی۔ طالبان کے نئے امیر کے اصل حریف ملا عمر کے بھائی اور بڑے بیٹے تھے، جنھوں نے ملا منصور کی تقرری کے طریقے پر سوالات اُٹھائے تھے۔ تاہم رواں برس ستمبر میں افغان طالبان کا دعویٰ سامنے آیا کہ وہ تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے نئے رہنما ملا اختر محمد منصور کی سربراہی میں متحد ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169