10 اگست 2015 - 14:48
بیداری امت کانفرنس کی جھلکیاں

کانفرنس میں ہزاروں خواتین و مرد شریک تھے، حبس کے باعث شرکاء گاہے بگاہے پنڈال میں آتے اور جاتے رہے، اس بار کانفرنس میں ماضی کی نسب نظم و ضبط زیادہ دیکھنے کو ملا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے زیراہتمام قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی 27ویں برسی اسلام آباد میں منائی گئی جس میں ہزاروں محبان قائد شہید نے شرکت کی اور اپنے عظیم قائد کو خراج تحسین پیش کیا۔ برسی کے حوالے سے چند اہم جھلکیاں پیش خدمت ہیں۔

1۔ قائد شہید کی برسی کا پروگرام اس سال روٹین سے ہٹ کر صبح 9 کے بجائے شام 4 بجے شروع کیا گیا جو رات ساڑھے 9 بجے تک جاری رہا۔
2۔ برسی میں ملک بھر سے نمائندہ شرکت ہوئی تاہم جڑواں شہروں اس بار ریکارڈ شرکت ہوئی۔
3۔ پروگرام ٹھیک 4 بجے شروع ہوا، لیکن اجتماع کی شکل 2 گھنٹے بعد بنی، یعنی 6 بجے پنڈال بھر گیا تھا۔
4۔ حَبس کے باعث لوگ پنڈال میں آتے اور جاتے رہے، بہت سارے لوگ پنڈال میں بیٹھنے کے بجائے گرین بیلٹ پر بیٹھ کر سستاتے بھی رہے اور رہنماوں کی تقاریر بھی سنتے رہے۔
5۔ علامہ سید حسن ظفرنقوی کبیر والا سے خصوصی طور پر پروگرام میں شرکت کیلئے آئے اور پروگرام تاخیر سے شروع ہونے کے باعث خطاب نہ کرسکے، کیوں کہ علامہ حسن ظفر نقوی کو واپس کبیر والا پہنچنا تھا۔
6۔ تنظیمی احباب بار بار یہ سوال کرتے پائے گئے کہ اس بار پروگرام شام میں کیوں رکھا گیا۔ بعض تنظیمی احباب کا کہنا تھا کہ اگر پروگرام مغرب سے پہلے ختم ہوجائے تو اگلے دن بروقت دفاتر پہنچنے میں آسانی ہوگی۔
7۔ پروگرام میں خوارتین کی بھی بڑی تعداد شریک تھی جو برادران سے زیادہ نظم وضبط کیساتھ پروگرام میں آخری وقت تک موجود رہیں۔
8۔ پروگرام کی خاص بات یہ تھی کہ روٹین سے ہٹ کر اس بار علامہ ناصر عباس جعفری کا پہلے سیشن کے اختتام پر ہی خطاب کرا دیا گیا جبکہ دوسرے سیشن میں علامہ اعجاز بہشتی، مرکزی صدر آئی ایس او اور آخری خطاب علامہ امین شہیدی سے کرایا گیا۔
9۔ تمام میڈیا کی جانب سے ڈی ایس این جیز ہمہ وقت موجود رہیں، صحافیوں کی بڑی تعداد کانفرنس میں شریک رہی۔
10۔ پروگرام میں مجلس وحدت کسیاتھ ساتھ قومی پرچموں کی بھی بہار لگی رہی۔
11۔ علامہ ناصر عباس جعفری نے جہاں اپنے خطاب میں ملت کو درپیش تمام مسائل کو بیان کیا وہیں عالمی ایشوز کو بھی انہوں نے ایڈریس کیا۔
12۔ کانفرنس کی خاص بات اس بار علماء اہل سنت کی شرکت تھی جنہوں نے قائد شہید کی اتحاد بین المسلمین کی کوششوں کو سراہا۔
13۔ اس بار کانفرنس کا اسٹیج بڑا اور خوبصورت بنایا گیا تھا جس کی بدولت شرکاء کانفرنس کو قائدین کو دیکھنے میں آسانی پیش آئی۔
14۔ نیشنل میڈیا کے علاوہ غیرملکی میڈیا بھی موجود تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169