اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ E1 آبادکاری منصوبے کے لیے اسرائیلی حکومت کی جانب سے ٹینڈر جاری کیے جانے پر احتجاج کے لیے اسرائیلی ناظم الامور کو طلب کیا گیا ہے۔
برطانوی وزارت خارجہ نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر E1 آبادکاری منصوبہ منسوخ کرے۔ وزارت نے اس منصوبے کو ناقابل قبول اور تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے دو ریاستی حل کو ختم کرنے کی کوششوں پر برطانیہ خاموش نہیں رہے گا۔
اس سے قبل جرمنی نے بھی E1 علاقے میں 1234 رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے پہلے ٹینڈر کی مذمت کی تھی۔
E1 منصوبہ مقبوضہ مغربی کنارے کے انتہائی حساس علاقوں میں واقع ہے اور اس کے تحت مقبوضہ مشرقی بیت المقدس اور معالیہ ادومیم یہودی بستی کے درمیان ہزاروں رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے سے مغربی کنارے کا جغرافیائی رابطہ مزید متاثر ہونے اور اسے شمالی و جنوبی حصوں میں تقسیم ہونے کا خدشہ ہے، جس سے مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مسلسل جغرافیائی خطے کا امکان مزید محدود ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت E1 علاقے میں تقریباً 3400 رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جرمنی، فرانس، اٹلی اور برطانیہ پہلے ہی کمپنیوں کو اس منصوبے کے تعمیراتی ٹینڈرز میں شرکت کے حوالے سے خبردار کر چکے ہیں۔
اسرائیلی تنظیم ’’پیس ناؤ‘‘ نے بھی ٹینڈر جاری کیے جانے کے وقت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت انتخابات سے قبل تعمیراتی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے آئندہ حکومت کے لیے اس منصوبے کو روکنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آسٹریلیا کا بھی اسرائیل سے احتجاج
دوسری جانب آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے تصدیق کی ہے کہ غزہ میں آسٹریلوی امدادی کارکن زومی فرانکوم سمیت عالمی مرکزی کچن (World Central Kitchen) کے 7 کارکنوں کے قتل کی مجرمانہ تحقیقات شروع نہ کرنے کے اسرائیلی فیصلے پر احتجاج کے لیے اسرائیلی سفیر کو طلب کیا گیا۔
آسٹریلوی حکومت نے اسرائیلی فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مطلوبہ جوابدہی کے تقاضوں سے بہت دور ہے۔
اپریل 2024 میں غزہ کے وسطی علاقے دیر البلح میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں عالمی مرکزی کچن کے 7 امدادی کارکن شہید ہوئے تھے۔ متاثرین میں آسٹریلیا، پولینڈ اور برطانیہ کے شہری شامل تھے جبکہ بعض افراد کے پاس امریکا، کینیڈا اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی دوہری شہریت بھی تھی۔
تنظیم کے مطابق امدادی کارکن دو بکتر بند گاڑیوں اور ایک دوسری گاڑی میں سفر کر رہے تھے، جن پر تنظیم کا واضح نشان موجود تھا اور ان کی نقل و حرکت کے بارے میں اسرائیلی فوج سے پیشگی رابطہ بھی کیا گیا تھا، اس کے باوجود انہیں نشانہ بنایا گیا۔
آپ کا تبصرہ