اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پینٹاگون نے بدھ کے روز اپنے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے امریکی فوجیوں کے نقصانات میں 50 سے زائد زخمیوں کا اضافہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات بدستور تعطل کا شکار ہیں۔
پینٹاگون کے ڈیفنس کژولٹی اینالیسس سسٹم میں بیرونِ ملک فوجی کارروائیوں اور ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے اعداد و شمار کو یکجا کرنے کے بعد بتایا گیا ہے کہ 28 فروری کو امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک اور 757 زخمی ہوئے ہیں۔
امریکی محکمہ جنگ نے گزشتہ ماہ فوجی نقصانات کے نظام میں ’’بیرونِ ملک آپریشنز‘‘ کے نام سے ایک نئی کیٹیگری شامل کی تھی، جس میں 7 جولائی سے شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں کے دوران ہونے والی ہلاکتیں اور زخمی شامل کیے گئے ہیں۔
تاہم امریکی حکام نے اب تک یہ واضح نہیں کیا کہ اس کیٹیگری میں شامل نقصانات کس مخصوص محاذ یا جھڑپ کے نتیجے میں ہوئے۔ 7 جولائی وہ تاریخ ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے جنگی اختیارات کے قانون کے تحت کانگریس کو ایران کے ساتھ نئی جنگ شروع ہونے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا تھا۔
تازہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گزشتہ ماہ پینٹاگون کو اپنے ڈیٹا بیس سے فوجیوں کی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کم کیے جانے پر میڈیا اور قانون سازوں کی سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس دوران چار ہلاک فوجیوں اور درجنوں زخمیوں کے نام اعداد و شمار سے نکال دیے گئے تھے، تاہم بعد میں انہیں دوبارہ شامل کردیا گیا۔
امریکی محکمہ جنگ نے اس کمی کی وجہ ’’عارضی ڈیٹا کی خرابی‘‘ قرار دی تھی، جبکہ امریکی میڈیا کو ذرائع نے بتایا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران پینٹاگون امریکی فوج کے جانی نقصانات کے اعداد و شمار جاری کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کرتا رہا ہے اور حکام اس کی وجہ سکیورٹی خدشات کو قرار دیتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ