26 جولائی 2015 - 14:23
ترکی اور اسرائیل تعلقات کا مستقبل

شام میں بحران کے آغاز سے ترکی کی خارجہ پالیسیوں نے نہ صرف خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کو شدید نقصانات پہنچائے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو بھی بہت سے اسٹریٹجک مواقع فراہم کر دیے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
2010ء سے ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں تناو پایا جاتا ہے۔ البتہ ترکی قوم کی نظریاتی بنیادیں غاصب صہیونی رژیم سے نفرت پر استوار ہیں اور رجب طیب اردگان وہ سیاسی رہنما تھے جنہوں نے اپنی قوم کی اس خصوصیت کو پہچانتے ہوئے اسے سیاسی میدان میں منظرعام پر لانے میں کامیاب ہوئے۔ آج ترکی قوم مسئلہ فلسطین کو اپنی سیاسی اور ثقافتی سوچ کا حصہ بنا چکی ہے اور اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے انجام پانے والے مجرمانہ اقدامات کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار مختلف انداز میں ظاہر کرتی رہتی ہے۔ تحریر حاضر میں ترکی اسرائیل تعلقات کی تاریخ کا مختصر جائزہ لیتے ہوئے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ آئندہ حکومت کے دوران یہ تعلقات کیا رخ اختیار کریں گے اور حال ہی میں منعقد ہونے والے انتخابات میں کامیابی سیاسی جماعتیں ترکی اور اسرائیل کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر کس طرح اثرانداز ہوں گی۔

 
ترکی اسرائیل تعلقات کا تاریخی جائزہ:

مارچ 1949ء میں امریکہ کی جانب سے غاصب صہیونی رژیم کو تسلیم کئے جانے کے دو ماہ بعد انقرہ نے بھی اسرائیل کو تسلیم کر کے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لئے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ تعلقات اس حد تک استوار ہو گئے کہ جب مصر نے 1951ء میں سویز کینال سے اسرائیلی کشتیوں کی رفت و آمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تو ترکی نے مغربی دنیا کے ساتھ مل کر اس کی پرزور مخالفت کی۔ اسی طرح ترکی نے 1960ء کے عشرے میں اپنی پالیسیوں کو معتدل بنانے کیلئے جنوری 1975ء میں پی ایل او (Palestinian Liberation Organization) کو فلسطین کی واحد نمائندہ جماعت کے طور پر تسلیم کر لیا۔ 1991ء میں ترکی نے اسرائیل اور پی ایل او کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کی سطح کو سفیر کی حد تک بڑھا دیا جس کے بعد اسرائیل ترکی تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہو گیا۔ 1993ء میں اسرائیلی وزیر دفاع کے دورہ ترکی نے دونوں ممالک کے اعلی سربراہان کی جانب سے دوروں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا اور تقریبا ہر چھ ماہ بعد مختلف دوروں کے دوران کئی فوجی، اقتصادی اور ثقافتی معاہدوں کا انعقاد عمل میں آیا۔ شام میں سکیورٹی بحران کے معرض وجود میں آنے اور ترکی کی جانب سے شام میں سیاسی تبدیلی پر مبنی پالیسی اختیار کرنے کے باعث ایک طرف تو اسلامی مزاحمتی بلاک کو شدید دھچکہ لگا اور دوسری جانب غاصب صہیونی رژیم کیلئے بہترین اسٹریٹجک مواقع ابھر کر سامنے آ گئے۔ اس صورتحال کے تناظر میں اسرائیل اور ترکی کے درمیان تعلقات کو ایک طرح سے "اسٹریٹجک اتحاد" کا نام دیا جا سکتا ہے۔

 
ترکی میں 2003ء میں رجب طیب اردگان کی سربراہی میں انصاف و ترقی پارٹی کے برسر اقتدار آ جانے کے بعد انقرہ کی خارجہ پالیسیوں کا جھکاو عالم اسلام کی طرف بڑھ گیا اور گذشتہ حکومتوں کے برخلاف اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بہتری حکومت کی ترجیحات میں شامل نہ تھی بلکہ مسئلہ فلسطین اور فلسطین میں سرگرم مجاہد تنظیموں کے ساتھ تعلقات پر زیادہ زور دیا گیا۔ اسی وجہ سے ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات تناو کا شکار ہونے لگے۔ اس کے علاوہ ڈیوس اجلاس میں رجب طیب اردگان اور اسرائیلی صدر شیمون پرز کے درمیان تلخ کلامی اور اس کے نتیجے میں رجب طیب اردگان کا اجلاس کو ترک کر دینا اور پھر مرمرہ فلوٹیلا کے واقعات نے ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو مزید تاریک کر دیا۔ مذکورہ نکات کے علاوہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات پر اثرانداز ہونے والے بعض دوسرے عناصر درج ذیل ہیں۔

 
1)۔ رجب طیب اردگان کی سربراہی میں ترکی حکومت نے 2010ء تک ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات استوار کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں اسرائیل کے ساتھ ترکی کا جیوپولیٹیکل تعاون بے معنی سا ہو کر رہ گیا اور ترکی نے اپنے طور پر ہمسایہ ممالک سے تعلقات بڑھانا شروع کر دیے۔

 
2)۔ ترکی حکومت نے خطے کے تمام سیاسی کھلاڑیوں کے ساتھ ایک جیسے اور مساوی بنیادوں پر تعلقات استوار کی پالیسی اختیار کی جس کے نتیجے میں اس نے عرب ممالک سے بھی اسی قدر تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کی جس قدر اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات استوار تھے۔ ترکی اس پالیسی کے ذریعے ایک وسیع تر اتحاد تشکیل دینے کی کوشش میں مصروف تھا۔

 
3)۔ 1970ء کی دہائی سے ترکی میں اسلامی تشخص کے احیاء کی عظیم موج نے جنم لیا اور اس کے اثرات پورے معاشرے پر پھیل گئے۔ اس کے علاوہ، ترکی عوام کی اکثریت عالم اسلام میں اپنے مخصوص کردار اور اپنی تاریخی اور تہذیبی ذمہ داریوں کے قائل ہیں۔ لہذا ترکی کے سیاست دان حضرات جس قدر اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم سے دوری اختیار کرتے ہیں اسی قدر عوام میں ان کی مقبولیت اور محبوبیت بڑھتی چلی جاتی ہے اور نتیجتاً عالم اسلام میں ترکی کی پوزیشن بھی زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے۔

 
4)۔ ترکی نے یورپی یونین کا حصہ بننے کی سرتوڑ کوششیں کی ہیں لیکن اسے اس مقصد میں بری طرح ناکامی کا شکار ہونا پڑا ہے۔ لہذا ترکی یورپ کے دوغلے معیاروں سے شدید مایوس ہو کر مشرقی روایات کی جانب واپس پلٹ رہا ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے عالم اسلام سے اپنے تعلقات بڑھانا اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔

 
5)۔ ترکی اور اسرائیل کے درمیان انجام پانے والی تجارت سالانہ 3.5 ارب ڈالر تھی جبکہ اس وقت ترکی اور عرب ممالک کے درمیان انجام پانے والی تجارت کی مقدار اس رقم سے کئی گنا زیادہ ہے۔

 
بہرحال، رجب طیب اردگان کی حکومت 2011ء میں شام میں بحران پیدا ہونے تک اپنے ہمسایہ ممالک سے قریب ہو کر اور غاصب صہیونی رژیم سے دور ہو کر کافی حد تک عالم اسلام میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے میں کامیاب رہی اور دنیا کی مسلمان اقوام میں اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ لیکن شام میں بحران کے آغاز سے ترکی کی خارجہ پالیسیوں نے نہ صرف خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کو شدید نقصانات پہنچائے بلکہ ساتھ ہی ساتھ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو بھی بہت سے اسٹریٹجک مواقع فراہم کر دیے۔

 
ترکی کی سیاسی جماعتیں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات:

ابھی تک ہم نے ترکی کی حکمران جماعت انصاف و ترقی کے نقطہ نظر سے ترکی اسرائیل تعلقات کا جائزہ لیا ہے۔ یہ جماعت عالم اسلام کے بارے میں ایک تہذیبی نقطہ نظر کی حامل ہے اور خطے میں اخوان المسلمین کی حامی ہے۔ انصاف و ترقی پارٹی کی نظر میں اسرائیل "دہشت گرد حکومتوں" کے زمرے میں آتا ہے۔ لہذا یہ جماعت اپنے حکومتی اختیارات کے دائرے میں رہ کر فلسطین کی مجاہد تنظیموں خاص طور پر حماس کی ہر ممکنہ سیاسی اور مالی حمایت کرتی رہی ہے۔ حتی رجب طیب اردگان حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل کو ترکی کی پارلیمنٹ میں خصوصی مہمان کے طور پر بلاتے رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ رجب طیب اردگان کی جانب سے اسرائیل کی مخالفت نظریاتی بنیادوں پر استوار نہ تھی بلکہ صرف قانونی حد تک ہی محدود رہی۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ شام کے بحران سے متعلق ترکی اور اسرائیل میں ایک طرح سے بالواسطہ سکیورٹی تعاون برقرار رہا ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ حالیہ انتخابات میں ترکی کی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں نقطہ نظر کیا ہے۔

 
1)۔ عوامی جمہوری پارٹی (CHP):

عوامی جمہوری پارٹی نے حالیہ انتخابات میں پارلیمنٹ کی 132 سیٹیں حاصل کی ہیں اور وہ اس وقت ملک کی دوسری پارٹی کے طور پر جانی جاتی ہے۔ اس جماعت کی سربراہی کمال قلچدار اوغلو کے ہاتھ میں ہے جو علوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سیاسی جماعت کی بنیاد درحقیقت ترکی کے بانی کمال اتاترک نے رکھی تھی لہذا اس پارٹی کے بنیادی ترین اہداف میں سے ایک ملک میں سیکولر نظام حکومت کی بقا کو یقینی بنانا ہے۔ عوامی جمہوری پارٹی کے لیڈران نے ترک معاشرے کی نظریاتی و فکری بنیادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف اسلامی ایشوز جیسے حجاب کے مقابلے میں معتدلانہ پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں اور اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے مجرمانہ اقدامات کے خلاف بھی صرف ظاہری حد تک ہی مذمت اور مخالفت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس پارٹی کے عہدیداران شام بحران سے متعلق رجب طیب اردگان کی پالیسیوں کے بھی شدید مخالف ہیں جبکہ مشرق وسطی میں ایسی پالیسیوں کے بھی مخالف ہیں جو ترکی کو اسرائیل کے مقابلے میں لا کھڑا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ عوامی جمہوری پارٹی کے لیڈران فلسطین کے بارے میں رجب طیب اردگان کی پالیسیوں کو ایران سے متاثرہ قرار دے کر اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔

 
2)۔ قوم پرست تحریک پارٹی (MHP):

دولت باغچہ لی کی سربراہی میں قوم پرست تحریک پارٹی کا زیادہ زور قومی تشخص پر ہے اور وہ مشرق وسطی سے متعلق موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی شدید مخالف ہے۔ ان کی نظر میں عرب مشرق وسطی ترکی کیلئے اسٹریٹجک گہرائی اور جیوپولیٹیکل اہمیت کا حامل نہیں ہو سکتا بلکہ ترکی کیلئے اسٹریٹجک اہمیت اور گہرائی یوریشیا اور قفقاز اور مرکزی ایشیا کی ترک زبان ریاستوں سے وابستہ ہے۔ اس جماعت کے لیڈران اسلامی تشخص کو اخوان المسلمین کی صورت میں نہیں بلکہ عثمانی اور ترکی یا دوسرے الفاظ میں اناطولیائی اسلام کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ اس جماعت کے سربراہان اسرائیل کی مخالفت پر مبنی ترکی کی رائے عامہ پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یوریشیا جیسے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل خطے میں اسرائیل کے ساتھ تعاون غیر مفید نہیں اور اس بات کے حامی ہیں کہ عرب اسرائیل تنازعہ خود انہیں کے سپرد کر دینا چاہئے۔ اگرچہ اس جماعت میں اکمل الدین احسان اوغلو جیسے افراد بھی موجود ہیں جو ماضی میں اسلامک کانفرنس تنظیم کے جنرل سیکرٹری رہ چکے ہیں لیکن ان افراد کی موجودگی نے بھی اس جماعت کی پالیسیوں پر زیادہ اثر نہیں ڈالا۔

 
3)۔ عوامی ڈیموکریٹک پارٹی (HDP):

یہ سیاسی جماعت درحقیقت ایک کرد قوم پرست جماعت ہے جو پی کے کے کا سیاسی ونگ شمار ہوتی ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر کہ اسرائیل مشرق وسطی میں ایک خودمختار کرد ریاست کی تشکیل کا بڑا حامی تصور کیا جاتا ہے لہذا خطے میں سرگرم تمام کرد تنظیمیں کسی نہ کسی حد تک اسرائیل کی طرف جھکاو رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر عوامی ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ صلاح الدین دمیر تاش نے حالیہ انتخاباتی مہم کے دوران استنبول میں اپنی ایک تقریر کے دوران کہا کہ میری نظر میں بیت المقدس یہودیوں کی ملکیت ہے۔ اس کے اس موقف کے خلاف ترکی کے کئی سیاسی رہنماوں نے شدید اعتراض کا اظہار کیا جس پر ایچ ڈی پی کے بعض لیڈران حزب اللہ لبنان کی حمایت کا اظہار کرنے پر مجبور ہو گئے۔

 
خلاصہ یہ کہ ترکی کی مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان عوامی ڈیموکریٹک پارٹی میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا سب سے زیادہ رجحان پایا جاتا ہے۔ یہ پارٹی پوسٹ ماڈرن نقطہ نظر کے تحت قومی حکومت کے میدان میں ظاہر ہوئی ہے اور ترکی کے قومی تشخص یا رٹ کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی۔ یہ جماعت "شدت پسندانہ جمہوریت" کے نعرے کے ساتھ خطے میں جمہوری پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی حکام بھی رجب طیب اردگان کی پارٹی کو کمزور کرنا چاہتے ہیں لہذا ان کی کوشش ہو گی کہ وہ ان کی مخالف سیاسی جماعتوں سے تعلقات بڑھا کر اپنے مغربی اتحادیوں کی سفارتی سرگرمیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ترکی میں اپنے مطلوبہ سیاسی اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

 
ترکی کے حالیہ انتخابات کے نتائج کو مدنظر قرار دیتے ہوئے جن میں انصاف و ترقی پارٹی سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کو اس قدر اکثریت حاصل نہیں ہو سکی کہ وہ اکیلے حکومت تشکیل دے سکے، اور نئی شراکتی حکومت بھی اپنے امور میں رجب طیب اردگان کی مداخلت کو ہر گز برداشت نہیں کرے گی، یہ کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں ترک صدر کا کردار صرف تشریفاتی حد تک ہی رہ جائے گا۔ لہذا ان حقائق کی روشنی میں اسرائیل سے متعلق ترکی کی خارجہ پالیسی کے بارے میں درج ذیل اہم نکات بیان کئے جا سکتے ہیں:

 
1۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں بہتری: ترکی کی آئندہ شراکتی حکومت اسرائیل کے ساتھ موجود تنازعات اور تناو کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کرے گی۔ لہذا وہ مرمرہ کشتی سے متعلق قانونی شکایت میں بھی نرمی کا اظہار کرتے ہوئے مغربی حکومتوں کی وساطت سے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات بڑھانے کی کوشش کرے گی۔ البتہ یہ تعلقات ماضی میں موجود "اسٹریٹجک اتحاد" کی سطح تک نہیں پہنچ پائیں گے اور صرف دوطرفہ تعلقات میں موجود تناو ہی کم کیا جا سکے گا۔

 
2۔ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی پالیسی کی جانب بازگشت: ترکی کی آئندہ حکومت دوبارہ ماضی میں اپنائی جانے والی یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں مضبوطی کی پالیسی کا احیاء کرے گی۔ اس قسم کی پالیسی اسرائیل کے فائدے میں تصور کی جاتی ہے۔

 
3۔ عثمانی دور سلطنت کے احیاء کی کوششوں کی شدت میں کمی: ترکی کی موجودہ حکومت نے ماضی کی عثمانی سلطنت کے احیاء کیلئے مشرق وسطی میں انتہائی خطرناک پالیسیاں اختیار کر رکھی ہیں جن کے منفی اثرات اب ترکی کے سامنے ظاہر ہو رہے ہیں۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مستقبل کی ترک حکومت گذشتہ عثمانی تہذیب کے احیاء کی کوششوں کی بجائے ملک میں ثقافتی اور اقتصادی صورتحال کو بہتر بنائے گی۔

 
4۔ شام بحران میں مداخلت کی پالیسی میں نرمی: ترکی کی آئندہ حکومت کے دوران شام بحران سے متعلق ترکی کی پالیسیاں زیادہ تر سیاسی انداز اپنا لیں گی اور فوجی مداخلت ترک کر دی جائے گی۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مستقبل میں شام سے متعلق ترکی کی پالیسیاں زیادہ اعتدال آمیز اور منطقی ہو جائیں گی۔

 
5۔ داعش سے دوری: ترکی حکومت پر بین الاقوامی سطح پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ داعش سمیت کئی تکفیری گروہوں کی حمایت کر رہی ہے۔ مستقبل میں برسراقتدار آنے والی ترک حکومت کی کوشش ہو گی کہ وہ داعش اور دوسرے تکفیری گروہوں سے دوری اختیار کرتے ہوئے اپنے اوپر تکفیری گروہوں کی حمایت کا الزام دور کرنے کی کوشش کرے۔

تحریر: رحمت اللہ فلاح

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲