اہل بیت(ع) نیوز
ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق سعودی مشاورتی کونسل کے رکن "یوسف بن طراد السعدود" نے روزنامہ
عکاظ میں ایک مضمون میں تجویز دی کہ "اگر ٹرمپ مشرق وسطی میں امن و استحکام
اور بالیدگی لانے کے سورما بننا چاہتے ہیں تو وہ اپنے اسرائیلی دوستوں کو فی الحال
الاسکا اور بعدازاں ـ گرین لینڈ کے امریکہ میں ضم کرنے کے بعد ـ گرین لینڈ میں
منتقل کریں"۔
قبل ازاں اسلامی
جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے تجویز دی تھی کہ ٹرمپ غزہ کے عوام
کے جبری انخلا کے بجائے اسرائیلیوں کو گرین لینڈ منتقل کریں۔
السعدون نے مزید
لکھا: "ٹرمپ کو اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہئے کہ غلط فیصلے صرف ایسے لوگ کرتے
ہیں جو متعلقہ شعبوں میں ماہرین کی دانش اور تجربے کو نظر انداز کرتے ہیں اور ماہرین
کے ساتھ بحث اور بات چیت سے گریز کرتے ہیں"۔
السعدون نے مزید
کہا: "صہیونیوں اور ان کے بہی خواہوں کو جان لینا چاہئے کہ وہ سعودی قیادت
اور حکومت کو اپنے تشہیری جالوں میں نہیں الجھا سکتے اور جھوٹے سیاسی دباؤ میں نہیں
لا سکتے"۔
نیتن یاہو نے
جمعرات کے دن چینل i14 کو انٹرویو دیتے ہوئے "فلسطینی ریاست کے قیام کی سعودی تجویز"
کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا: "اگر فلسطینی ریاست سعودی عرب میں قائم کی جائے تو
مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے، ان کے پاس وسیع علاقے ہیں"۔
نیتن یاہو کی اس
بات پر سعودی سوشل میڈیا نیٹ ورکس میں شدید رد عمل آیا ہے۔ حبکہ بعض اطلاعات سے
معلوم ہواتا ہے کہ ٹرمپ غزہ کی آبادی کا ایک حصہ سعودی عرب بھجوانے کا ارادہ رکھتے
ہیں!
شاید یہی وجہ تھی
کہ سعودی وزارت خارجہ نے گذشتہ ہفتے منگل کی شام کو ٹرمپ کے بیان پر شدید رد عمل
ظاہر کیا۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ "سعودی عرب مزید دو ریاستی حل کا حامی نہیں
ہے!"
صہیونی وزیر
اعظم نیتن یاہو کو السعدون کا جواب
یوسف السعدون نے
اپنے مضمون میں لکھا: "فتنہ انگیزی اور جنگ پر اکسانے کی یہودیوں کی صلاحیت
پوری انسانی تاریخ میں ثابت ہوچی ہے، چنانچہ باعث حیرت نہیں ہے کہ بہت سے مغربی
ممالک نے انہیں اپنی سرزمین سے نکال باہر کیا ہے۔ نیز ان کا منحوس مکر بھی مخفی نہیں
ہے، وہ رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور اپنے مخالفین کو دفاعی پوزیشن سنبھالنے پر
مجبور کرنے کے ماہر ہیں"۔
گذشتہ منگل کو نیتن
یاہو نے ـ دوطرفہ مذاکرات کے بعد ـ وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ پریس
کانفرنس کے موقع پر دعوی کیا کہ "اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان امن قائم
ہو ہی جائے گا" اور "میں اس کا پابند ہوں"۔
سعودی عرب نے
متعدد بار غاصب ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کو فلسطینی ریاست کے قیام
سے مشروط کیا ہے۔
سعودی حکومت نے
حال ہی میں ٹرمپ کے استعماری منصوبے کے تحت فلسطینیوں کے جبری انخلا پر رد عمل ظاہر
کیا ہے اور کئی ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ خط میں اس منصوبے کی شدید مخالفت کی
ہے۔
من حیث المجموع
فلسطینیوں کی فلسطین اور مصر میں جبری نقل مکانی نیز سرزمین عرب میں فلسطینی ریاست
کے قیام پر مبنی نیتن یاہو کی تجویز نے عرب حکومتوں کے شدید تشویش سے دوچار کیا
ہے۔ لگتا ہے کہ اس تجویز پر ٹرمپ کا اصرار، ان کی توقعات کے برعکس، امریکہ اور عرب
ریاستوں کے درمیان کشیدگی کے اسباب فراہم کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم رضا
دہقانی، فارس نیوز ایجنسی
ترجمہ: فرحت
حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110