16 اکتوبر 2024 - 10:40
اسلام آباد: شنگھائی تعاون تنظیم صہیونیوں جرائم اور امریکی دہشت گردی سے نمٹ لے، ایرانی وفد کے سربراہ

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر صنعت، معدنیات و تجارت نے اسلام آباد میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس تنظیم کے ارکان کے ساتھ علاقائی تعاون میں سنجیدہ ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے وزیر صنعت، معدنیات و تجارت سید محمد اتابک نے عالمی نظام کو امن، استحکام اور سلامتی کے شعبوں میں درپیش چیلنجوں پر روشنی ڈالی۔

انھوں نے کہا کہ ایسی صورت میں کہ شنگھائی تعاون تنظیم جیسے علاقائی اتحاد رکن ممالک کے اقتدار اعلی، ارضی سالمیت، پڑوسیوں کی پرامن بقائے باہمی اور عدم مداخلت جیسے معاملات کو یقینی بنا سکتے ہیں، ہمیں درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے نئے طریقہ ہائے کار اختیار کرنا ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کثّیر قطی (Multipollar)  دنیا کے اہم ارکان میں سے ایک ہے اور اس تنظیم کے ارکان علاقائی اور عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت علاقے کو تکفیری دہشت گردی، انتہاپسندی، منشیات کی اسمگلنک اور دیگر منظم جرائم کا سامنا ہے جس سے نمٹنے کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران انتہائی سنجیدہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کو ایران کے خلاف صہیونیوں کے جارحانہ اقدامات کی مذمت کرنا چاہئے اور اس تنظیم کو صہیونیوں کے وحشیانہ جرائم اور مذموم حرکتوں کے خلاف سنجیدگی سے پیش آنا چاہئے اور صہیونی ریاست اور امریکہ کے خلاف واضح موقف اختیار کرنا چاہئے۔

انھوں نے کہا: ایران کی اسٹریٹیجک اور جیوپالیٹیکل خصوصیات، ماہر افرادی قوت، توانائی کے شعبے میں ایران کی صلاحیتیں، سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی اور بنیادی تنصیبات اور ٹرانزٹ کے وسائل کی فراوانی شنگھائی تعاون تنظیم کے لئے انتہائی مفید اور موثر ہو سکتی ہے۔

انھوں نے شنگھائی تنظیم کے رکن ممالک کے مابین تجارت کے فروغ پر زور دیا اور کہا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران تہران اور شنگھائی تنظیم کے دیگر ارکان کے مابین تجارت کا حجم 5/5 فیصد بڑھ کر  37 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بینک کنسورشیم، تجارتی کمیشنوں اور دیگر طریقہ ہائے کار کے ذریعے تجارت کے اس حجم کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

انھوں نے امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں اور ترقی پذیر ممالک بشمول ایران کے خلاف واشنگٹن کی معاشی دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے شنگھائی تعاون تنظیم کے ارکان کے اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ امریکہ کی عائد کردہ پابندیوں کا مقابلہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اہداف میں شامل ہونا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔

110