اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، یمن کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نے یمن کے اسکولوں پر امریکہ اور برطانیہ کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے اسرائیل کی بحری نقل و حمل کی حمایت کے لئے ہونے والی امریکی اور برطانوی کاروائیوں کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔
یمن کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور انصار اللہ کے ترجمان، نے آج شام کو کہا کہ یمن کے اسکولوں پر امریکی حملے امریکہ کی ناکامی کی علامت ہیں۔ عبدالسلام نے تعز صوبے میں امریکہ اور برطانیہ کے حملے کے دوران دو یمنی طالبات کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان وحشیانہ حملوں اور امریکہ کے جرائم کی مذمت کرتے ہیں اور غیرملکیوں اور تعلیمی مراکز پر حملے کو ایک خطرناک کشیدگی سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکہ بحیرہ احمر میں اسرائیل کی حمایت میں ناکام ہو چکا ہے۔
انصار اللہ کے ترجمان نے آخر میں کہا کہ یمن غزہ کی حمایت کے اپنے اصولی اور اخلاقی فیصلے پر قائم رہے گا اور اس فیصلے میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
یمن کی اعلیٰ سیاسی کونسل کے رکن محمد علی الحوثی نے آج صبح اپنے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر لکھا: چند سالوں کی جارحیت اور محاصرے کے بعد، یمن کی قوم اللہ کے فضل سے بڑی کامیابیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یمن کی تازہ ترین کامیابی امریکی بحریہ کو بحیرہ احمر سے نکال باہر کرنا ہے۔
انہوں نے دشمنوں کو خبردار کرتے ہوئے لکھا: اگر تم ناممکنات پر شرط لگا رہے ہو تو یمنی قوم اس کی خواہش رکھتی ہے اور اگر تم وقت پر شرط لگا رہے ہو، تو ہم وقت کو بھی اللہ کی رضا سے کامیابیوں کے حصول کے لئے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے۔
یمنی مسلح افواج نے گذشتہ چند مہینوں کے دوران فلسطین کی حمایت میں، کئی بار امریکی جنگی جہازوں پر حملے کئے ہیں۔
امریکہ نے اسرائیل کی حمایت میں اپنے بحری جنگی جہاز بحیرہ احمر میں روانہ کئے تا کہ یمن کے ڈرون اور میزائل حملوں کو روکا جا سکے۔
یمنی قوم نے صہیونی ریاست کے غزہ پر حملوں میں شدت آنے کے بعد، فلسطین کے جنوبی علاقے ایلات پر حملہ کیا اور اسرائیلی جہازوں اور اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف جانے والے جہازوں اور کشتیوں کو بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب سے گذرنے کی اجازت نہیں دی۔
۔۔۔۔۔۔۔
110