30 جولائی 2024 - 01:08
صہیونی فوجی بچوں کو ارادی طور پر گولی مارتے ہیں۔ یہودی ڈاکٹر کے المناک انکشافات + ویڈیو

امریکی یہودی ڈاکٹر جو عرصے تک ایک رضاکار معالج کے طور پر غزہ میں سرگرم عمل تھے، نے ملت فلسطین کے خلاف غاصب یہودی فوجیوں کے مظالم کے حوالے سے ہولناک انکشافات کئے اور کہا کہ صہیونی فوجی غزہ کے بچوں کو جان بوجھ کر گولی مارتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، مارک اے پرلمٹر (Mark A. Perlmutter) ایک امریکی یہودی آرتھوپیڈک سرجن اور بین الاقوامی سرجنزکالج کے وائس پرنسپل ہیں، جو اس سال اپریل (2024) سے مئی کے وسط تک، رضاکار معالج کے طور پر غزہ میں تعینات رہے ہیں۔

انھوں نے سی بی ایس چینل کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے بچے صہیونی ریاست کے اسنائپرز کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

ڈاکٹر مارک اے پرلمٹر کے انٹرویو کا متن درج ذیل ہے:

عنوان: ہیڈ شاٹ Head shot

ڈاکٹر مارک اے پرلمٹر: تمام المیے یکجا، جمع ہوئے ہیں۔ میں نے گذشتہ 30 برسوں میں 40 اہم طبی دورے کئے ہیں؛ میں نے 11 ستمبر کے واقعات اور بہت سارے زلزلے دیکھے ہیں، لیکن یہ سارے واقعات [آج غزہ میں] یکجا ہوگئے ہیں۔ وہ تمام واقعات و حوادث غزہ میں میری موجودگی کے پہلے دو ہفتوں کے دوران، عام شہریوں کے قتل عام کے ساتھ قابل قیاس نہیں ہیں۔

سوال: آپ جو عام شہریوں کی بات کرتے ہیں تو کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ ان میں اکثریت بچوں کی تھی؟

جواب: اکثریت بچوں کی تھی اور اس طرح کی صورت حال میں نے اس سے پہلے کبھی بھی نہیں دیکھی تھی۔ ایسی چیز میں نے نہیں دیکھی تھی۔

میں نے وہاں اپنی پوری زندگی سے کہیں زيادہ بچوں کو دیکھا جو آگ میں جل گئے تھے۔ صرف صرف، غزہ میں موجودگی کے پہلے دو ہفتوں میں، میں نے بہت سے بچوں کو دیکھا جن کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے ہو چکے تھے۔

سوال: ٹکڑے ٹکڑے؟

جواب: جی ہاں ٹکڑے ٹکڑے۔

سوال: ٹکڑے ٹکڑے سے آپ کا کیا مطلب ہے؟

جواب: زیادہ تر بچوں کے بدن کے ٹکڑے ملبہ گرنے اور بمباری کی وجہ سے گم ہو گئے ہوتے تھے؛ ہم نے بموں اور گولوں کے ٹکڑے ـ جو میرے انگوٹھے کے برابر ہوتے تھے ـ آٹھ سالہ بچوں کے جسموں سے خارج کر دیئے۔

علاوہ ازیں ایک مسئلہ اسنائپرز ہیں؛ ایسے بچے بھی ہیں جو دو بار پے در پے اسنائپرز کے گولیوں کا نشانہ بنے ہیں۔

سوال: رکئے، کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ غزہ میں ایسے بچے ہیں جنہیں اسنائپرز نے نشانہ بنایا ہے؟

جواب: جی ہاں! میرے پاس دو بچوں کی تصویریں ہیں جنہيں صحیح نشانہ بنایا گیا ہے اور گولیاں ان کے سینوں میں لگی ہیں۔ یہ گولیاں اتنے صحیح نشانے پر لگی ہیں کہ گویا آپ نے ان کے دل کے اوپر سٹیتھو سکوپ رکھا ہؤا ہے! دوسری مرتبہ اسی بچے کے سر میں گولی لگی ہے؛ یقینا دنیا کے بہترین اسنائپرز بھی ایک کم عمر بچے پر دو مرتبہ 'غلطی سے' گولی نہیں چلاتے۔ ان کی چلائی ہوئی گولیاں مہلک ہوتی ہیں

۔۔۔۔۔۔

دریں اثناء صہیونی فوج نے ایک بیان سی بی ایس کے ذریعے سے نشر کروایا جس میں ان مذکورہ ڈاکٹر کے موقف کی تردید کی گئی اور دعوی کیا گیا کہ "ہم جنگ میں بچوں کو نشانہ نہیں بناتے اور ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں!"

ادھر غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، صہیونی جارحیت کے نتیجے میں اب تک فلسطینی شہداء کی تعداد 39000 تک پہنچ گئی ہے جن میں 70 فیصد بچے اور خواتین شامل ہیں، جبکہ ہزاروں افراد ملبوں تلے مدفون ہیں اور ایک لاکھ کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ اور صہیونی غاصب ریاست نے امریکہ سمیت مغرب کی حمایت کے تحت اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھا ہؤا ہے۔

ادھر حال ہی میں امریکی ڈاکٹروں نے جو بائیڈن اور کمالہ ہیرس کے نام اپنے کھلے خط میں لکھا ہے کہ غزہ میں فلسطینی شہداء کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جو فلسطینی وزارت صحت بتا رہی ہے [کیونکہ فلسطینی وزارت صحت کے پاس صحیح تعداد معلوم کرنے کے وسائل نہیں ہیں]

امریکی ڈاکٹروں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ غزہ میں صہیونی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 92000 سے بھی زیادہ ہے اور صہیونی جارحیت کی بھینٹ چڑھنے والوں کی یہ تعداد غزہ کی 4.6 آبادی کے برابر ہے۔

ادھر 20 دوسرے امریکی ڈاکٹروں نے ـ جو حال ہی میں غزہ میں سرگرم عمل رہے ہیں ـ بھی تصدیق کی ہے کہ صہیونی فوجی غزہ کے بچوں کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان ڈاکٹروں میں سے ایک نے سی بی ایس چینل کو بتایا: میں نے سی ٹی اسکین رپورٹوں کا جائزہ لیا تاکہ جو کچھ میں نے دیکھا تھا اس کی تصدیق کر سکوں "کیونکہ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ ان بچوں کی اتنی بڑی تعداد کو ایک اسپتال میں داخل کیا جاسکتا ہے جن کے سر گولیوں سے زخمی ہوئے ہوں"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"وَسَيعْلَمُ الّذينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ؛ [1]

اور وہ جنہوں نے ظلم ڈھایا ہے، بہت جلد جان لیں گے کہ وہ واپسی کے کس مقام پر پلٹ کر جاتے ہیں"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]۔ سورہ شعراء، آیت 227۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  110