8 اپریل 2023 - 12:19
اسرائیل پر حملہ ڈیڑھ لاکھ میزائل اور پانچ ہزار کامیکازے ڈرون صفر گھنٹے کے منتظر

جنوبی لبنان سے شمالی فلسطین میں واقع صہیونی قصبوں پر میزائل حملے جس کی طرف سے بھی ہو، لبنانی مقاومت (حزب اللہ) کے ساتھ ہمآہنگی کے سوا انجام نہیں پاتے۔ اگر جنگ کی آگ بھڑک اٹھے تو یہ صہیونی کابینہ کے زوال کا آغاز ہوگی، کیونکہ ڈیڑھ لاکھ میزائل اور پانچ ہزار کامیکازے ڈرون طیاروں کو صفر گھنٹے (Zero Hour) اور ہری بتی کا انتظار ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  اخبار رأی الیوم کے چیف ایڈیٹر عبدالباری عطوان نے جمعرات (6 اپریل 2023ع‍) کے روز، جنوبی لبنان سے شمالی فلسطین میں صہیونی قصبوں اور نوآبادیوں پر وسیع میزائل حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
جو چیز صہیونی حکام کو سیاسی اور عسکری لحاظ سے تشویش میں مبتلا کرتی ہے، یہ ہے کہ صہیونی ریاست کے خلاف جنوبی لبنان کا محاذ کھل گیا ہے اور جمعرات کی شام کو ہے، اور الجلیل، نیز شاید عکا، حیفا اور تل ابیب پر وسیع پیمانے پر میزائل حملے ہوئے ہیں۔ یہ حملے انتہائی تیزرفتاری سے انجام پائے ہیں، اور صہیونی میزائل شکن سسٹم آہنی گنبد (Iron Dome) ان میزائلوں کا حملہ نہیں روک سکا ہے اور کاتیوشا اور گراڈ (Katyusha and Grad) میزائلوں نے مقبوضہ فلسطین کی گہرائیوں کو نشانہ بنایا۔
ابتدائی طور پر کہا گیا کہ جنوبی لبنان سے 34 میزائل (یا راکٹ) مقبوضہ فلسطین میں صہیونیوں کے مراکز پر داغے گئے جن میں سے صرف پانچ راکٹوں کو مار گرایا گیا اور باقی میزائلوں نے اپنا کام خوش اسلوبی سے انجام کو پہنچایا؛ لیکن صہیونیوں نے بعد میں دعوی کیا کہ گویا انھوں نے ان میں سے 25 میزائلوں کو نشانے پر پہنچنے سے پہلے مار گرایا اور پانچ میزائل شمالی فلسطین میں غاصب ریاست کے ٹھکانوں تک پہنچ سکے۔ لیکن بہرحال دنیا جانتی ہے غاصب صہیونی ریاست جانی اور مالی نقصانات کے بارے میں حقائق کو چھپا کر رکھتی ہے۔
بہرحال ان میزائلوں کا جنوبی لبنان سے داغا جانا اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ میزائل سنہ 2006ع‍ کے بعد پہلی بار داغے گئے ہیں جس کا مقصد فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کرنا اور مسجد الاقصی میں مسلمان نمازیوں پر صہیونی درندوں کے وحشیانہ حملے کا جواب دینا اور مقبوضہ فلسطین کی اندرونی مجاہد تحریکوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو سراہنا تھا۔
ان میزائلوں کی اہمیت کو ہلاک یا زخمی ہونے والے صہیونی فوجیوں کی تعداد سے نہیں پرکھا جاتا، بلکہ صہیونی ریاست کے فوجی اور سیاسی اداروں پر اس کے نفسیاتی اثرات نیز صہیونی ریاست کے لئے اس کے نتائج ان میزائلوں کی اہمیت کا معیار سمجھے جاتے ہیں۔ چنانچہ غاصب ریاست صہیونی نوآبادیات اور غاصب یہودیوں کے قصبوں کے رہائشیوں کے تحفظ سے عاجز و بے بس ہے؛ اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس ریاست کی سلامتی زائل ہوچکی ہے جس کی وجہ سے غیر ملکی کمپنیاں مقبوضہ فلسطین سے بھاگ رہی ہیں اور صہیونی الٹی نقل مکانی کر رہے ہیں اور بیرونی سرمایہ کار بھی اپنا سرمایہ دوسرے ممالک میں منتقل کر رہے ہیں۔
بیشتر صہیونی قصبوں اور نوآبادیوں میں خطرے کا سائرن بجنے اور ہزاروں افراد کا پناہگاہوں میں چلے جانے کی وجہ سے، نیتن یاہو کی فسطائی کابینہ ہی نہیں بلکہ صہیونی ریاست کا وجود تک انتہائی دشوار صورت حال سے دوچار ہو چکی ہے، جبکہ اندرون خانہ بھی صہیونیوں کے درمیان دراڑیں پڑ گئی ہیں اور ناجائز ریاست کو خانہ جنگی کی کیفیت کا سامنا ہے، اور اب تک لاکھوں صہیونیوں نے مقبوضہ فلسطین کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے ہیں اور یہ سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔
یقینی امر ہے کہ جمعرات کو داغے جانے والے میزائل، صحیح نشانے پر لگنے والے ہزاروں بیلسٹک میزائلوں جتنے خطرناک نہیں ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ یہ میزائل خزب اللہ کے پاس موجود ہیں؛ چنانچہ چھوٹے میزائلوں اور راکٹوں کا یہ حملہ حزب اللہ لبنان کی طرف سے جعلی صہیونی ریاست کو ایک انتباہ قرار دیا جا سکتا ہے، کہ مسجد الاقصی پر وحشیانہ یلغار نیز مسجد میں اعتکاف پر بیٹھے فلسطینی عبادت گزاروں پر حملے، صہیونیوں کے لئے انتہائی ناخوشگوار نتائج پر منتج ہونگے اور جیسا کہ سید حسن نصر اللہ نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں دھمکی دی تھی، ممکن ہے صہیونیوں کا یہ رویہ ایک وسیع علاقائی جنگ کی صورت حال اختیار کرے۔
ایک طرف سے لبنان کے جنوب سے صہیونیوں پر میزائل حملے ہوئے تو دوسری طرف سے شام پر بھی صہیونیوں نے میزائل حملے کئے ہیں جن کے نتیجے میں دو ایرانی فوجی مشیر جام شہادت نوش کر گئے ہیں اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے انتقام کا وعدہ دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تمام میدانوں میں صہیونیوں سے نمٹنے کی ہدایات جاری ہوچکی ہیں اور صہیونیوں کا مقابلہ تزویراتی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور مقاومت اسلامی کے تزویراتی صبر کا دور گذر چکا ہے چنانچہ عین ممکن ہے کہ صہیونیوں کو اگلے چند ہفتوں میں لرزہ خیز واقعات کا سامنا کرنا پڑے۔
ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ بنیامین نیتن یاہو – جو کھوکھلی دھمکیاں دے کر اپنے اندرونی مسائل پر پردہ ڈالنے کا عادی ہے – نے لبنان کی تباہی کے حوالے سے کوئی دھمکی نہیں دی ہے اور وہ – بعض اخبارات اور ویب گاہوں پر اس کے فوجی کمانڈروں کے فاش ہونے والے خیالات کے مطابق – لبنان کے خلاف جنگ شروع کرنے کا خواہاں نہیں ہے اور اس کی واحد وضاحت یہ ہے کہ وہ سمجھ گیا ہے کہ “اگر علاقے میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھیں تو یہ جنگ اس کی کابینہ کے زوال کا آغاز ہوگا، کیونکہ ایک لاکھ 50 ہزار میزائل اور 5000 کامیکازے ڈرون طیار صفر گھنٹے (Zero Hour) کے منتظر ہیں اور حیفا، تل ابیب اور دوسرے صہیونی شہروں پر حملے کے لئے “ہائی کمان کی طرف سے” “ہری بتی” کا انتظار کر رہے ہیں۔
جنوبی لبنان سے شمالی فلسطین میں واقع صہیونی قصبوں پر میزائل حملے جس مقاومتی جماعت یا تنظیم یا تحریک کی طرف سے بھی ہو، یہ حملے لبنانی مقاومت “حزب اللہ” اور اس کے راہنما سید حسن نصر اللہ کے ساتھ ہمآہنگی کے سوا انجام نہیں پاتے؛ اور صہیونی ریاست کی عسکری مشینری اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے۔
نیتن یاہو کو اندرونی طور پر بدترین بحرانوں کا سامنا ہے، چنانچہ اس کو جنگ کی ضرورت تھی، اور جنگ کی ابتدائی نشانیاں عیاں ہو چکی ہیں، چنانچہ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے ٹینک جنوبی لبنان کی طرف روانہ کرے گا؟
ہمیں تقریبا یقین ہے کہ وہ – جنگ بندی کے سمجھوتے کی تلاش میں – اپنے ایلچیوں کو واشنگٹن، پیرس اور لندن روانہ کرے گا اور اچھی خاصی رعایتیں دینے کا وعدہ کرے گا، جن میں سے ایک “مسجد الاقصی پر یہودیوں کے حملوں کا خاتمہ” ہوگا۔ وہ جو غزہ کی محصور پٹی میں فلسطینی مقاومت کے مقابلے میں جمنے کی صلاحیت نہیں رکھتا – جنوبی لبنان پر کیونکر حملہ کر سکتا ہے جو ہزاروں لاکھوں میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے لیس مقاومتی تحریک حزب اللہ کا مسکن ہے۔  

ترجمہ ابوفروہ مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242