انہوں نے کہا کہ آزادی بیان کے بہانے اس طرح کی گھٹیا حرکتوں کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں کو زخمی کیا جارہا ہے، مسلمان جو کہ ہمیشہ دوسرے مذاہب اور ان کے مقدس آثار اور عبادت گاہوں کا احترام کرتے ہیں، اب اس گھناؤنے ذلت آمیز کھیل کی وجہ سے غصے میں سراپا احتجاج بن چکے ہیں، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ اس طرح کے شدت پسند شیطانی رویے ادیان و مذاہب کے پرامن بقائے باہمی کو شدید نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ ادیان اور تمدنوں کے درمیان مکالمے اور باہمی میل جول کی فضا کو بھی تاریک بنا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی بین المذاہب ہم آہنگی و مذاکراتی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے قرآن مجید کو نذر آتش کرنے اور مذہبی مقدسات کی توہین کے ذریعے لاکھوں مسلمانوں کی دل آزاری کی شدید مذمت کرتا ہوں، مختلف مذاہب کے رہنماؤں و دانشوروں اور دنیا کے آزاد خیال لوگوں، بالخصوص مغربی یورپ اور شمالی امریکہ کے باشندوں سے قرآن کریم کے پیروکاروں کی کم از کم توقع یہ ہے کہ کئی سالوں سے مسلمانوں کے خلاف کھیلے جانے والا کھیل سے جو آزادی اظہار کے نام پر اسلام دشمنی اور اسلامی مقدمات کی سراسر توہین پر مبنی ہے، واضح طور پر اپنی لاتعلقی کا اعلان کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242