28 اگست 2021 - 14:25
ماگام میں کاہ چرائی خالی کروانے کے لئے حکام کا سخت گیر طرز عمل آغا حسن کا اظہار تشویش

آغا صاحب نے افسوس ظاہر کیا کہ عدلیہ کی اس ہدایات کے باوجود کہ متعلقہ معاملہ فی الحال التوا میں رکھا جائے اور اگلے عدالتی حکم کا انتظار کیا جائے کے باوجود ڈی سی بڈگام اور تحصیل دار نے جس اجلت سے کام لیا وہ سراسر متعصبانہ ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ماگام بڈگام میں رقبہ کاہ چرائی پر صد سالہ قبضہ و تصرف ہٹانے کے لئےمتعلقہ حکام اور پولیس کے سخت گیر و غیر انسانی طرز عمل اور مکینوں پر پولیس تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ اس رقبہ کاہ چرائی پر جن مکانات کو ہٹانے کے لئے عوام پر زور زبردستیاں کی جا رہی ہیں وہ کئی دہایوں پہلے تعمیر شدہ مکانات ہیں اس لمبی مدت کے دوران کسی بھی حکومت نے ان مکانات کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی۔

آغا صاحب نے افسوس ظاہر کیا کہ عدلیہ کی اس ہدایات کے باوجود کہ متعلقہ معاملہ فی الحال التوا میں رکھا جائے اور اگلے عدالتی حکم کا انتظار کیا جائے کے باوجود ڈی سی بڈگام اور تحصیل دار نے جس اجلت سے کام لیا وہ سراسر متعصبانہ ہے۔

آغا صاحب نے کہا کہ مکانات کی تعمیر میں ایک کنبے کی عمر بھر کی کمائی صرف ہوتی ہے اور موجودہ حالات اور وقت میں عام لوگوں کے لئے مکان کی تعمیر صرف ایک خواب بن کر رہ گئی ہے ایسے حالات میں غریب لوگوں کو مکانات ہٹانے کا حکم جاری کرنا ظلم بالاے ظلم ہے۔

آغا صاحب نے متاثرین کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری زمین پر مکانات کی تعمیر کو روکنے کے لئے متعلقہ حکام کی غیر ذمہ داریوں کا سنجیدہ نوٹس لینے کے بجائے غریب عوام کو نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں آغا صاحب نے کہا کہ سرکاری زمین پر برسا برس پہلے تعمیر کردہ مکانات کو ہٹانےکے بجائے سرکار کواس معاملے میں کوئی اور راہ حل نکالنا چاہے دریں اثنا آغا حسن نے جامع مسجد سرینگر میں جمعہ و جماعت پر مسلسل پابندی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب جب کہ وادی کے تمام دینی و جمعہ مراکز پر احتیاطی تدابیر کے ساتھ جمعہ و جماعت ادا کی جا رہی ہیں صرف جامع مسجد سرینگر میں پابندی کا کوئی جواز اور کوئی وجہ نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲