اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عدلیہ کے سربراہ نے بیرون ملک رہنے والے کچھ ایرانیوں کی وطن واپسی کی خواہش اور عدالتی سلوک کے بارے میں ان میں سے بعض کی تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی ایرانی جو ایران کا شہری ہے اور اب بیرون ملک ہے اسے ملک واپس آنے سے منع نہیں کیا گیا ہے۔
"محسنی اژہ ای" نے کہا کہ خاص طور پر بعض معاملات ہیں جہاں اگر یہ لوگ واپس آئیں اور ان کے مسائل یہاں حل کیے جائیں تو یہ ان کے مفاد میں ہے اور وہ غیر یقینی صورتحال سے باہر نکل جاسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب بیرون ملک میں مقیم بعض شہری ہیں جن کی ایران میں جائیداد اور سہولیات کا کوئی سرپرست نہیں ہے اور کچھ سٹیک ہولڈرز انہیں ملک واپس آنے کیلئے ڈرا رہے ہیں، لیکن اگر یہ لوگ واپس آتے ہیں تو ان کے مالی مسائل کو ایک سادہ اور مکمل تفتیش میں واضح کیا جائے گا۔
محسن اژہ ای نے کہا کہ ایسے لوگ ہیں جن کیخلاف ملک سے باہر جانے کی پابندی لگا دی گئی ہے اور وہ پریشان ہیں کہ وہ سرحد میں داخل ہوتے ہی گرفتار ہو جائیں گے اور جیل جائیں گے اور ان کیخلاف الزمات کا جائزہ نہیں لیا جائے؛ تا ہم یہ افراد بغیر کسی حراست کے عدلیہ کیساتھ ہم آہنگی سے ملک واپس آسکتے ہیں۔
لہذا انہوں نے عدلیہ کے سربراہ نے استغاثہ اور عدلیہ کے سربراہوں کو یاد دلایا کہ جن لوگوں پر کئی سالوں سے ملک چھوڑنے پر پابندی عائد تھی اور جن کے پاس اب بھی وارنٹ نہیں ہے انہیں صرف اس لیے گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے کہ ان پر ملک چھوڑنے پر پابندی ہے اور یہ نہیں کیا جانا چاہئے۔
محسنی اژہ ای نے اس بات پر زو ردیا کہ بہت سے لوگ جن کے پاس فوجداری یا قانونی مقدمہ ہے، خاص طور پر وہ لوگ جن کے پاس کوئی قانونی مسئلہ ہے اور جنہیں حراست میں لیا گیا ہے یا طویل عرصے سے باہر جانے پر پابندی ہے انہیں حراست میں لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ جوڈیشری کمیونیکیشن سینٹر یا پراسیکیوٹرز میں داخل ہونے کے وقت اور طریقے کا اعلان کرنے سے بغیر کسی پریشانی کے ملک میں داخل ہو سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲