اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے میونخ سیکورٹی کانفرنس کے موقع پر امریکی ٹیلی ویژن چینل این بی سی (NBC) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپئو نے جنوری کے مہینے میں اس وقت جب شہید جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کئے جانے اور ان کی شہادت کی بنا پر بحران اپنے عروج پر تھا ایک نامناسب خط ایران بھیجا تھا۔ وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا کہ مائک پمپئو کے خط میں دھمکیاں دی گئی تھیں جن کا ایران نے منھ توڑ جواب دیا۔ محمد جواد ظریف نے ایران کے خلاف بحران پیدا کرنے کی بنا پر امریکی حکومت کی سرزنش کی اور کہا کہ یہ بحران ٹرمپ کے پیچھے ہٹنے پر ختم ہوگا اور اس کے تمام تر خطرناک نتائج کی ذمہ داری امریکہ پرعائد ہوتی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے عراقی اور لبنانی استقامتی محاذ اور گروہوں کا کنٹرول ایران کے ہاتھ میں ہونے سے متعلق امریکہ کے من گھڑت دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی شہید ہونے سے قبل عراق میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے میونخ کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر یورپ ایٹمی سمجھوتے پرعملدرآمد کرے گا تو ایران بھی اس سمجھوتے کی تمام شقوں پر مکمل عمل درآمد پھر سے شروع کردے گا۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے میونخ کانفرنس کے موقع پر کینیڈا کے وزیراعظم اور چین، عمان، کرویشیا، فنلینڈ، جمہوریہ چک کے وزرائے خارجہ اور دی ایلڈرز گروپ کے اراکین سے بھی ملاقات اور گفتگو کی۔ درایں اثنا ایران کے وزیر خارجہ نے مغربی ایشیا کے علاقے سے امریکہ کے باہر نکلنے پر تاکید کی۔ وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے سنیچر کو امریکی ٹی وی چینل این بی سی نیوز کو دیئے گئے اپنے انٹرویو کو دوبارہ نشر کرتے ہوئے لکھا کہ امریکی صدر ٹرمپ، غلط مشوروں کی وجہ سے غلط فیصلے کر رہے ہیں۔ جواد ظریف نے کہا کہ ٹرمپ کے غلط فیصلوں کی وجہ سے مغربی ایشیا کے علاقے سے امریکہ کے خاتمے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے سنیچر کی صبح میونخ سیکورٹی کانفرنس کے موقع پر این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے شہید جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کے امریکی جرم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنی نادانی اور غلط اطلاعات کی بنا پر مغربی ایشیا کے علاقے کو جنگ کی دہلیز تک لے گیا۔ چھپنویں میونخ سیکورٹی کانفرنس جمعے کو شروع ہوئی ہے اور اتوار تک جاری رہے گی اس کانفرنس میں دنیا کے پینتیس ملکوں کے سربراہوں سمیت مختلف ممالک کے اعلی حکام موجود ہیں۔
/129