ابنا: رہبر انقلاب اسلامی نے نماز جمعہ کے پہلے خطبے میں تہران یونیورسٹی میں اور تمام ملحقہ سڑکوں پر صف نماز میں بیٹھے بے شمار نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے اسلامی انقلاب سے قبل کے حالات اور دنیا کے سیاسی امور پر اس انقلاب کے اثرات کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا کی استبدادی اور استکباری طاقتوں نے مشرق وسطی کے انتہائی اہم اور سوق الجیشی اہمیت کے حامل علاقے میں اپنے مفادات کے حصول کے لئے بڑی باریک بینی سے منصوبے تیار کئے تھے اور برسوں انہوں نے اس منصوبے پر کامیابی سے عملدرآمد بھی کیا لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی نے ان کے سارے منصوبوں کو درہم برہم کر دیا۔ رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلامی انقلاب سے قبل مشرق وسطی کے لئے سامراج کے منصوبے کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ کمزور اور ایک دوسرے کے دشمن ممالک جن کے حکام مغرب کے مہرے ہوں، ایسے ممالک جو اقتصادی لحاظ سے محض صارف اور علمی میدان میں پسماندہ، ثقافتی میدان میں مغرب کے نقش قدم پر چلنے والے، فوجی لحاظ سے ناتواں، اخلاقی لحاظ سے بے راہرو اور انحطاط کا شکار اور مذہبی اعتبار سے بالکل سطحی فکر والے اور مذہب کو افراد کی ذاتی حد تک محدود رکھنے والے ہوں، یہ وہ خصوصیات ہیں جو سامراج نے مشرق وسطی کے ملکوں کے لئے معین کی تھیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ان حالات میں اسلامی انقلاب کی شکل میں ہونے والے عظیم دھماکے اور امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی شکل میں عدیم المثال، مدبر، فقیہ، مجاہد، شجاع، جوکھم اٹھانے والے، گہرا اثر رکھنے والے عالم دین کے ظہور کو اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل مشرق وسطی کے علاقے میں مغرب کے تمام اندازوں اور منصوبوں کے درہم برہم ہو جانے کا باعث قرار دیا اور فرمایا کہ اس عظیم انسان کا ظہور، موجودگی اور تربیت حقیقت میں کار خدا تھا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ملت ایران کی بیداری، آمادگی اور ان کی جانب سے امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی بے دریغ حمایت کو اسلامی انقلاب کی فتح کا مقدمہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی فتح اور اس کی بقاء کے سلسلے میں امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) اور عوام کہسار کی مانند پامردی سے کھڑے ہو گئے۔ پھر دشمن نے لاکھ کوشش کی لیکن اس عظیم اسلامی انقلاب کو منحرف یا شکست سے دوچار نہیں کر سکا۔ آپ نے انقلاب کو شکست سے دوچار کرنے کی دشمن کی سازشوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے گزشتہ بتیس برسوں کے دوران کی جھڑپوں، قومیتی جنگوں، بغاوت، آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ، اقتصادی پابندیوں اور بلا وقفہ جاری نفسیاتی جنگ کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ ان تمام اقدامات کے ذریعے دشمن نے تین بنیادی ہدف حاصل کرنے کی کوشش کی۔ رہبر انقلاب اسلامی نے انقلاب کا سقوط اور اسلامی جمہوری نظام کی سرنگونی کو گزشتہ بتیس برسوں کے دوران دشمن کا سب سے اہم ہدف قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ نظام کے خاتمے میں ناکامی کی صورت میں امریکا کا دوسرا ہدف انقلاب کی ماہیت کو تبدیل کر دینا تھا۔ یعنی انقلاب کا پیکر اور ظاہری شکل تو باقی رہے لیکن اس کی روح اور اس کا باطن ضائع ہو جائے۔ آپ نے سنہ دو ہزار نو کے فتنوں کو انقلاب کو دگرگوں کر دینے کی دشمن کی تازہ ترین سازش قرار دیا اور فرمایا کہ اس فتنے کے منصوبہ ساز، پالیسی ساز اور ہدایت کار سرحدوں کے باہر تھے اور اب بھی ہیں جبکہ کچھ لوگ مفاد پرستی اور مقام و منصب کے لالچ میں ان کی سازشوں کے اسیر بن گئے اور دانستہ یا نادانستہ طور پر انہوں نے تعاون بھی کیا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے استکباری طاقتوں کے تیسرے ہدف کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ان کی تمام کوششوں کے باوجود بھی اگر اسلامی نظام باقی رہ جائے تو کمزور قوت ارادی والے افراد کو جن پر آسانی سے اثر انداز ہوا جا سکتا ہے ملک کے بنیادی امور میں اصلی فریق کی حیثیت سے پیش کریں اور ایسا نظام تشکیل دیں جو کمزور اور فرماں بردار ہو اور امریکا کے سامنے سر اٹھانے کی ہمت نہ رکھتا ہو۔ آپ نے ایران کے بیدار عوام، ملک میں ممتاز ہستیوں اور اچھے حکام کے وجود کو تمام اہداف و مقاصد میں دشمن کی شکست کا باعث قرار دیا اور فرمایا کہ انقلاب نے اپنی گہرائی اور خاص ماہیت کی بنیاد پر ملک میں بڑی بنیادی تبدیلیاں کیں اور امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) اور عوام نے اتنے مضبوط ستون قائم کر دئے کہ یہ عظیم تحریک جاری رہی اور آئندہ بھی جاری رہے گی۔ رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایران میں اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد رونما ہونے والے گہرے اور اساسی تغیرات کی وضاحت کرتے ہوئے آمر پہلوی حکومت کی اسلام دشمنی کا ذکر کیا اور فرمایا کہ انقلاب نے اس پالیسی کو یکسر تبدیل کرکے اسلام کو ملک اور معاشرے کے نظم و نسق کا محور بنا دیا۔ امریکا اور برطانیہ سے پہلوی حکومت کی شدید وابستگی اور ان پر انحصار کا خاتمہ اور دنیا میں ایران کو سیاسی آزادی کے مکمل نمونے میں تبدیل کرنا بھی رہبر انقلاب اسلامی کے بقول اسلامی انقلاب کا اہم ثمرہ تھا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ یہ خود مختاری اور سیاسی وقار قوموں کے لئے بہت جاذب نظر ہے، چنانچہ اسلامی انقلاب کے تئیں قوموں کے خاص احترام کی ایک بڑی وجہ یہی اہم حقیقت ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے پہلوی دور میں سلطنتی نظام اور عوام کے کسی بھی طرح کے کردار کے فقدان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انقلاب کے بعد دینی جمہوریت، حکومت کی بنیاد قرار پائی اور انقلاب سے قبل کے دور کے برخلاف جب حکومت موروثی ہوا کرتا تھا، عوام کی رائے حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ آپ نے انقلاب سے قبل کی آمرانہ حکومت کی یاددہانی کراتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی انقلاب نے تنقید، اصلاح، انتباہ بلکہ مخالفت اور اعتراض کا دروازہ عوام کے لئے کھول دیا اور یہ سلسلہ گزشتہ بتیس برسوں میں بدستور جاری رہا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے علمی صلاحیتوں کے تیقن اور قومی خود مختاری کو اسلامی انقلاب کے دیگر اہم ثمرات میں شمار کیا اور فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی فتح سے قبل ملک سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں پوری طرح مغرب پر منحصر تھا لیکن اب سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں حیرت انگیز ترقی کے ساتھ ساتھ ملک کے پاس مختلف شعبوں میں ایسے عظیم اور ممتاز نوجوان سائنسداں موجود ہیں جو عالمی سطح پر کم نظیر ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی کے مطابق اسلامی انقلاب کی فتح کا ایک اور ثمرہ علاقائی اورعالمی مسائل میں ایران کی موثر پوزیشن ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس وقت ملت ایران کی عزت و عظمت اور عالمی و علاقائی امور میں اس کے اثر و رسوخ نے دشمنوں کو مبہوت کر دیا ہے اور وہ بھی اب ہمیشہ ایران کے اثر و نفوذ کی باتیں کرتے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ثقافتی میدان میں (مغرب کی) کورانہ تقلید سے نجات کو بھی اسلامی انقلاب کا اہم ثمرہ قرار دیا اور فرمایا کہ ملک ان خصوصیات اور بنیادوں کے ساتھ دنیا میں نئی تہذیب کا بانی بن سکتا ہے۔ آپ نے دنیا کی دیگر قوموں کے لئے اسلامی جمہوریہ کے پیشرفتہ عوامی آئین کی نمونہ عمل قرار پانے کی صلاحیت اور اسلامی جمہوریہ کی علمی، سیاسی، معاشی اور فوجی کامیابیوں کے پرکشش ریکارڈ کے بارے میں ایک مغربی عہدہ دار کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ قوم کے دشمنوں کی خلاف ورزیوں کے باوجود یہ چیز وقوع پذیر ہوئی اور ملت ایران مختلف میدانوں میں قوموں کے لئے نمونہ عمل بن گئی۔ آپ نے دوسروں کے لئے ملت ایران اور اسلامی جمہوریہ کے نمونہ عمل قرار پانے میں مغرب کی بعض غلطیوں کو بھی موثر بتاتے ہوئے فرمایا کہ ملت ایران کے ایٹمی حقوق سلب کرنے پر ان کے اصرار کے نتیجے میں قوم اور اسلامی نظام کے حکام کی پائیداری اور بڑھ گئی اور ساری دنیا کو معلوم ہو گیا کہ ایران ایٹمی شعبے میں غیر متوقع کامیابیاں حاصل کر چکا ہے اور کوئی بھی دباؤ ملت ایران کو پسپائی پر مجبور نہیں کر سکتا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کو پیٹرول کی فروخت پر مغرب کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی کے بارے میں فرمایا کہ اس کے نتیجے میں ملک کے حکام نے اور بھی سنجیدگی سے پیٹرول کی پیداوار میں خود انحصاری کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا، چنانچہ حکام کی رپورٹوں کے مطابق ملک اس سال نو فروری (اسلامی انقلاب کی فتح کی سالگرہ) تک پیٹرول درآمد کرنے سے مکمل طور پر بے نیاز ہو جائے گا بلکہ پیٹرول برآمد کرنے پر بھی قادر ہوگا۔ رہبر انقلاب اسلامی کے مطابق مغرب کی ایک اور بڑی غلطی ایران پر فوجی ساز و سامان کی پابندی عائد کرنا اور ایران کے ہمسایہ ملکوں میں انتہا پسند اسلامی تنظیموں کی تشکیل تھی۔ کیونکہ یہ اقدامات آخرکار ایران کی تقویت پر منتج ہوئے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ سنہ دو ہزار نو کے فتنے میں بھی انہوں نے اتنا ہنگامہ مچایا کہ ملت ایران میدان میں اتر پڑی اور تیس دسمبر کو (اسلامی نظام کی حمایت میں ملک بھر میں نکلنے والی ریلیوں کے ذریعے) ایک نئی تاریخ رقم کر دی گئی۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی بھی انقلاب دوسروں پر اسی وقت اثر انداز ہوتا ہے جب اس میں کچھ انفرادی خصوصیات ہوں اور ان میں بھی سب سے خاص استقامت و پائيداری ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اسلامی انقلاب کی خصوصیات اور اہم اصولوں کے سلسلے میں قوم اور نظام کی ثابت قدمی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ انقلاب کے آغاز سے ہی امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) اور ملت ایران نے اس انقلاب کے اسلامی ہونے پر زور دیا لیکن عالمی سطح پر کچھ لوگوں نے یہ شور مچانا شروع کر دیا کہ اسلامیت، جمہوریت کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی تاہم امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) اور عوام ان ہنگامہ آرائیوں پر توجہ دئے بغیر اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور اعلان کر دیا کہ ہمارا انقلاب اسلامی ہے اور اسلامی ہی رہے گا۔ آپ نے معاشرے میں اسلامی فضا اور ماحول کی بقاء کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت اسلامی ماحول اگر انقلاب کے وقت کی نسبت زیادہ نہیں ہے تو کم از کم اس دور کی مانند ضرور ہے اور آج ہمارے قابل تعریف نوجوان اس سلسلے میں انقلاب کے دور کے بعض لوگوں سے بہت آگے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے گزشتہ بتیس برسوں کے دوران معاشرے کو اسلامی ماحول سے دور کرنے کی بعض حلقوں کی ناکام کوششوں کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ عوام اور عہدہ دار اسلام پر ثابت قدم ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے جمہوریت کے سلسلے میں ثابت قدمی کو بھی انقلاب کی خصوصیات کے محفوظ رہنے کی ایک دلیل قرار دیا اور فرمایا کہ امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) نے انقلاب کی کامیابی کے پہلے دن سے ہی تاکید فرمائی کہ عوام اپنی رائے کا اظہار کریں اور يہ چیز تمام امور اور انتخابات میں آج تک جاری ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے گزشتہ بتیس برسوں میں ملک میں تیس انتخابات کے انعقاد کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ جنگ کے دوران بموں اور میزائلوں کی بارش میں بھی انتخابات ایک دن بھی موخر نہیں ہوئے اور یہ جمہوریت کے سلسلے میں ثابت قدمی کا حقیقی مفہوم ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے الگ الگ دور کے صدارتی انتخابات میں الگ الگ سیاسی فکر کے افراد کی کامیابی کا ذک
4 فروری 2011 - 20:30
News ID: 224535
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تہران کی مرکزی نماز جمعہ میں مؤمن و انقلابی عوام کے عظیم الشان اجتماع میں امسال اسلامی انقلاب کی سالگرہ کو گذشتہ برسوں سے مختلف قرار دیا اور اسلامی انقلاب کے نتیجے میں انجام پانے والی بنیادی اور گہری تبدیلیوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ قوم کی پائيداری کی برکت سے یہ تبدیلیاں ان پورے بتیس برسوں کے دوران جاری رہیں اور آج ملت ایران شمالی افریقہ کے تازہ واقعات اور خاص طور پر مصر اور تیونس کے عوام میں اسلامی بیداری کی شکل میں اپنی برسوں کی جدوجہد کے کے دوران اپنی مظلومانہ مگر مقتدرانہ صدا کی بازگشت کا مشاہدہ کر رہی ہے۔