17 اپریل 2010 - 19:30

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: یقینا وہ دن دور نہیں ہے جب خطے کی اقوام صہیونی ریاست کی نابودی کا نظارہ کریں گی اور اس دن کی دوری یا نزدیکی اسلامی ممالک اور مسلم اقوام کی کارکردگی پرمنحصر ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق افریقی ملک اسلامی جمہوریہ موریطانیہ کی صدر محمد ولد عبدالعزیز نے رہبر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی؛ موریطانیہ سے آئے ہوئے وفد کے ارکان بھی اس موقع پر موجود تھے۔رہبر انقلاب اسلامی نے موریطانی صدر سے بات چیت کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی ممالک کے ساتھ تعاون اور دوستانہ تعلقات اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کا مسلمہ اصول ہے اور ہمیں امید ہے کہ آپ کا دورہ ایران مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کا مبارک آغاز ہو۔ آپ نے گذشتہ سال صہیونی ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑنے کے موریطانیہ کی حکومت کے اقدام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: موریطانیہ کا یہ اقدام بعض مدعی عرب حکومتوں کے لئے نمونہ عمل ہے کیونکہ صہیونی ریاست پورے عالم اسلام کے لئے عظیم خطرہ شمار ہوتا ہے اور ہر روز خطے میں اپنا تسلط اور نفوذ بڑھانے کے درپے ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے غزہ میں صہیونی جرائم کو امت اسلامی کے پیکر پر گہرا گھاؤ قرار دیا اور اس سلسلے میں بعض عرب حکومتوں کے کردار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: صہیونی ریاست دباؤ، ناکہ بندی اور نسل کشی کے ذریعے فلسطین کو اسلام کی عملداری سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے گو کہ وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکے گی۔حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ اي نے فرمایا: یقینا وہ دن دور نہیں ہے جب علاقے کی اقوام صہیونی ریاست کی نابودی کا نظارہ کریں گی اور اس دن کی دوری یا نزدیکی اسلامی ممالک اور مسلم اقوام کی کارکردگی پرمنحصر ہے۔ آپ نے حرص و طمع کاری اور تسلط پسندی کی مغربی عادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مغربی ممالک کے ہاں اسلامی ممالک کی ہمراہی اور مسلمانوں کا ساتھ دینے کے سلسلے میں کوئی بھی محرک نہیں ہے [اور مسلمانوں سے کسی ان کی ہمدردی کی کوئی وجہ نہیں ہے] اور جہاں بھی انھوں نے قدم رکھا ہے وہاں انھوں نے فساد و تباہی برپا کی ہوئی ہے اور اسی حقیقت کا ایک زندہ نمونہ افریقہ ہے جو گذشتہ ایک صدی کے دوران مغربیوں کے زیر پنجہ رہا۔حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ‌اي نے افریقہ کی نسبت امریکی حرص و لالچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ افریقہ میں اپنی افواج تعینات کرنے کے لئے اڈہ قائم کرنے کے درپے ہے جو ایک بڑا خطرہ ہے اور افریقی حکومتوں اور قوموں کو ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ ان کے ممالک اور ان کے گھر امریکی اڈوں میں تبدیل ہوجائیں۔رہبر انقلاب اسلامی نے عالمی سطح پر اسلامی ممالک کی پوزیشن کی بہتری اور ارتقاء کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امت اسلامی کے شایان شان مقام و منزلت تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی ممالک کے درمیان حقیقی برادری اور اخوت قائم ہوجائے اور ساتھ ساتھ بین الاقوامی تسلط پسند طاقتوں کا سہارا لینے سے بچا جائے۔ حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ‌اي نے موریطانیہ سمیت اسلامی ممالک کو اسلامی جمہوریہ ایران کے سائنسی اور صنعتی تجربات کی منتقلی کے لئے آمادگی کا اظہار کیا۔ موریطانیہ کے صدر محمد ولد عبدالعزیز نے ایران کی صنعتی، فنی اور سائنسی ترقی کو مسلمانان عالم کے لئے باعث اعزاز و افتخار قرار دیا اور تمام شعبوں میں ایران اور موریطانیہ کے تعلقات کے زیادہ سے زیادہ فروغ پر زور دیا۔ انھوں نے رہبر انقلاب اسلامی کے کلام کو حکمت آموز قرار دیتے ہوئے علاقائی اور عالمی سطح پر امن و سکون کے قیام کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کردار کا شکریہ ادا کیا۔