خلائی صنعت
-
ایران کی خلائی صنعت؛
ایرانی سیٹلائٹس لانچنگ ایران-روس تعاون کی گہرائی کی جانب ایک قدم اور، ترک اخبار
ترکیہ کے روزنامے ینی شفق نے ایک رپورٹ میں روسی سویوز راکٹ کے ذریعے تین ایرانی مصنوعی سیاروں کو زمین کے مدار میں بھیجے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے: یہ اقدام تہران اور ماسکو کے درمیان خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون کی توسیع اور گہرائی کی واضح علامت ہے۔
-
ایران کی خلائی صنعت؛
تین نئے ایرانی سیارچے خلا میں / ایران مکمل خلائی ٹیکنالوجی کے حامل 10 کے زمرے میں
منصوبے کے مطابق، یہ سیارے زمین کی سطح سے تقریباً پانچ سو کلومیٹر کی بلندی پر تعینات ہوتے ہیں۔ یہ مدار زمینی مشاہدے، مشاہدے اور عملی ڈیٹا حاصل کرنے اور بھیجنے کے لئے موزوں ہے اور ساتھ ہی زمینی اسٹیشنوں کے ساتھ تیز رفتار مواصلات اور ڈیٹا کی ترسیل ممکن بناتا ہے۔
-
سائنس اور ٹیکنالوجی؛
انفوگرافی | ایک نظر میں 3 ایرانی سیٹلائیٹوں کی مکمل تفصیلات
تین سیٹلائیٹس "ظفر"، "پایا" اور "کوثر" ایران کی خلائی صنعت کے سفر کا واضح خاکہ پیش کرتے ہیں؛ زمین کے مشاہدے اور تصویر کشی سے لے کر مستحکم ڈیٹا کی ترسیل اور خلائی خدمات کی ترقی تک۔
-
دسمبر کے اواخر میں تین ایرانی سیارے خلا میں بھیجے جائیں گے
28 دسمبر کو ایران کے تین جدید سیارے سایوز راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ ہوں گے تاکہ زمین کی نگرانی، فصلوں کی حفاظت اور قدرتی وسائل کا بہتر انداز میں جائزہ لیا جاسکے۔
-
ایران کی خلائی صنعت؛
ایران کی خلائی طاقت کے بارے میں اطالوی تھنک ٹینک کی رپورٹ
اطالوی تھنک ٹینک "مطالعۂ بین الاقوامی سیاسیات" کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے مصنوعی سیارہ کے پروگرام، ایران کے خلائی پروگرام کو ایک قومی کامیابی میں بدل سکتے ہیں جو عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔