10 مارچ 2019 - 21:32
عراقی سرزمین پر غیر ملکی افواج کی کوئی ضرورت نہیں، قیس خز علی اور ہادی العامری کا خطاب

امریکہ "نئی داعش" بنانے اور کرکوک میں مداخلت کرنے سے باز رہے، عراق کو اپنی سرزمین پر امریکی فوج کی کوئی ضرورت نہیں، ہم نے ملکی سرزمین پر کبھی غیر ملکی افواج کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی کریں گے، قیس خزعلی اور ہادی العامری کا خطاب

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی مقاومتی گروہ "عصائب الحق" اور "منظمہ بدر" کے سربراہان نے یوم شہید کی مناسبت سے خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکہ "نئی داعش" کو سپورٹ اور کرکوک میں مداخلت کر رہا ہے۔ "الحیاۃ" اخبار کی رپورٹ کے مطابق "عصائب اہل الحق" عراق کے سربراہ قیس خز علی نے "روز شہید" کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عراق کو نشانہ بنانے کے لئے ایک اور بیرونی سازش تیار کی جا رہی ہے، جس کا مقصد ہمارے ملک کو سیاسی و اقتصادی استحکام حاصل کرنے سے روکنا ہے، لہذا آج ہمیں باہمی تعاون، اتحاد اور احساس ذمہ داری کے ذریعے سیاسی فتح تک پہنچنے کا ایک اور حقیقی موقع مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض طاقتوں کے مقابلے میں عراق کی عزت و وقار اور داعشی گروہ پر فتح یابی کا اصلی راز مقاومت ہے۔

یہ مقاومت "انقلاب عشرین" (1920ء میں برطانیہ کے قبضے کے خلاف عراقی قوم کے قیام) اور "انتفاضۂ شعبانیہ" کا تسلسل ہے، جبکہ آج عراق داعش کے مقابلے میں اپنی جدوجہد کے ذریعے فتح اور کامرانی کے مراحل طے کرتا جا رہا ہے۔ حجت الاسلام قیس خز علی نے مزید کہا کہ عراق میں موجود امریکی سفارتخانہ آج داعش کی تیسری نسل کی بات کر رہا ہے، تاکہ اس منحوس سازش کو عملی جامہ پہنا سکے، لہذا آج ہمیں کرپشن اور فساد پھیلانے کی ہر قسم کی کوشش کے مقابلے میں ایک قطعی موقف اپنانا ہے اور یہ ہم ہی ہوں گے جو "صادقون پارلیمانی اتحاد" یا "الفتح اتحاد" پر کسی بھی قسم کی کرپشن کے الزام کے عائد کئے جانے کے خلاف سب سے پہلے قیام کریں گے۔

دوسری جانب عراق کی مقاومتی تحریک "منظمہ بدر" اور "الفتح اتحاد" کے سربراہ ہادی العامری نے بھی "روز شہید" کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف ملنے والی یہ عظیم فتح عراق کے قومی ہیرو مجاہدین کی جدوجہد اور خون کی بدولت حاصل ہوئی ہے جبکہ داعش کے خلاف عراق کی حمایت میں بننے والے بین الاقوامی اتحاد نے بہت دیر سے، جب آخری فتح حاصل ہونے ہی والی تھی، اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ عراق کے وقار، اس کی حاکمیت اور استقلال کے رستے میں جانثاری کے جذبے کی حفاظت ہونا چاہیئے۔ عراق کا استحکام پورے خطے کا استحکام ہے، تاہم بعض قوتیں عراق میں امیدوں کو توڑنے کے لئے دن رات کوششیں کر اور منصوبے بنا رہی ہیں۔ جناب ہادی العامری نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ کٹھ پتلی میڈیا، جو عراق کو نشانہ بنانا چاہتا ہے، کی طرف سے لاحق خطرہ بھی داعش کی دہشتگردی کے خطرے سے کم نہیں۔

انہوں نے اپنے ملک میں امریکی افواج کی موجودگی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج کی موجودگی کے بارے میں "الفتح اتحاد" کا موقف واضح ہے۔ "الفتح اتحاد" کو ان غیر ملکی افواج کی ملکی سرزمین پر کسی بھی قسم کی موجودگی اور فوجی چھاؤنیوں کی تشکیل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق کو اپنی سرزمین پر امریکی افواج کی موجودگی کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم نے ملکی سرزمین پر غیر ملکی افواج کی کسی بھی قسم کی موجودگی کو کبھی قبول کیا ہے اور نہ ہی کریں گے۔ عراقی سرزمین پر کسی کے لئے بھی تیسرے فریق کے حساب چکانے یا ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے کے عمل کی کوئی جگہ نہیں۔ کرکوک میں امریکی سفارتخانے کی مداخلت روز روشن کی طرح واضح ہے۔ کرکوک کے مسائل کا حل وہاں کے ساکنین اور صوبائی انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے۔ جناب ہادی العامری نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ امریکہ کا مقاومتی تحریکوں کو دہشتگرد کہنا ہمیں خوفزدہ نہیں کرتا اور نہ ہی مقاومت کے رستے میں ہماری کاوشوں کو کم کرسکتا ہے، البتہ سکیورٹی آفیسرز کو چاہیئے کہ وہ دہشتگرد سرگرمیوں کے دوبارہ شروع ہونے کے حوالے سے ہوشیار رہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169