اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے اسلامی تہذیب کے ماہر اور نومسلم دینی مبلغ سہیل اسعد (ایڈگردو رابین = Edgardo Rubén Assad) نے اصفہان میں منعقدہ سیمینار بعنوان "عالم اسلام پر امام خمینی کے اثرات" کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اسلامی انقلاب سے پہلے مسلمان دین کو صرف زندگی کے بعض شعبوں میں لاگو کرنے کے قائل تھے مگر امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) نے زور دیا کہ دین اصلاح معاشرہ کی طاقت ہے اور زندگی کے تمام شعبوں کے لئے پروگرام اور منصوبے کا حامل ہے۔
سہیل اسعد کے خطاب کے اہم نکات:
احیائے دین
اسلامی انقلاب سے پہلے دین کا چہرہ مناسب انداز سے پیش نہیں کیا گیا تھا اور اس کا تعارف ناقص تھا، لیکن امام نے انقلاب کے بعد دین اسلام، پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کو نئے انداز سے متعارف کروایا اور دین کا روش چہرہ دنیا والوں کے سامنے رکھا۔ امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) رسول االلہ صلی اللہ علیہ و آلہ کو معاشرتی مصلح سمجھتے تھے۔
عاشورا کا احیاء
شیعیان عالم اسلامی انقلاب سے قبل ائمہ طاہرین علیہم السلام کو تاریخ کے آئینے میں اور تاریخی شخصیات کے طور پر پہچانتے تھے۔ امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) نے عاشورا کی تاریخی فکر کو زندہ کیا اور اس کو "تحریک مزاحمت" اور ایک زندہ فکر میں بدل دیا اور اسی بنا پر شیعیان عالم کا نعرہ "لبیک یا حسین" میں تبدیل ہوا جس نے دشمنان اسلام اور صہیونیوں پر کپکپی طاری کردی ہے۔
حال ہی میں امریکہ کے مرکزی خفیہ ادارے (CIA) نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شام میں امریکہ کی ناکامی کے لئے چار اسباب بیان کئے ہیں جو "ایران، روس، چین اور حزب اللہ" سے عبارت ہیں۔
ہلالِ شیعہ نہیں بلکہ بدرِ شیعہ
کسی وقت کہا جاتا تھا کہ علاقے میں "شیعہ ہلال" بن رہا ہے لیکن یہ ہلال اس وقت "بدرِ شیعہ" (شیعہ ماہِ کامل) میں تبدیل ہوچکا ہے؛ انقلاب اسلامی سے قبل بہت سے ملکوں میں شیعیان اہل بیت(ع) دوسرے درجے کے شہری سمجھے جاتے تھے لیکن آج یہ سوال پیش آتا ہے کہ کیا مشرق وسطی میں خطے کے شیعیان اہل بیت(ع) اور حزب اللہ کی مرضی کے خلاف کوئی کام کرنا ممکن ہے؟
آج دشمنان اسلام شیعیان اہل بیت(ع) کے تسلسل اور اتصال اور اسلامی جمہوریہ کے اثر و رسوخ سے خوفزدہ ہیں اور امریکہ آج ایران کو محدود کرنے کے لئے خصوصی بجٹ منظور کرنے پر مجبور ہے۔
احیائے مہدویت
امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کے کارناموں اور عالم اسلام پر آپ کے اثرات میں سے ایک مہدویت کا احیاء ہے؛ المیہ یہ تھا کہ اسلامی انقلاب سے قبل عقیدہ مہدویت کو ایک زندہ عقیدے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا، بلکہ اسے ایک افسانے کے طور پر دیکھا جاتا تھا لیکن انقلاب اسلامی کے بعد، یہ قابل یقین امر ایک سنجیدہ امید میں تبدیل ہوا اور اس پر غور و تأمل کا آغاز ہوا۔
اخلاقیات کا احیاء
اخلاقیات اسلامی نسبتی اور اضافی (relative) لیکن امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) نے اخلاق نبویہ اور ان اخلاقیات کے اقدار کو زندہ کیا۔
دشمن شناسی، ولایت اور مزاحمت
ہمارے مراجع تقلید کی حالت بھی مناسب نہیں تھی لیکن امام نے "ولایت فقیہ" اور "مزاحمتی معیشت" (Resistive economy) جیسے نظریات پیش کرکے انتظام کی نئی روش کو متعارف کرایا اور دشمن کا تعارف کروا کر مسلمانوں کو دشمن شناسی کا سبق دیا اور اس معاشرتی پہلو کو زندہ کرکے حقیقت کا لباس پہنایا۔
آج کی حقیقت یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو ظالمانہ پابندیوں کا سامنا ہے لیکن یہاں مزاحمتی معیشت اور امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) کے متعین کردہ حکمت عملیوں کے نفاذ نے اپنا کام کرکے دکھایا ہے اور آپ ایران کو باہر سے کچھ دیکھتے ہیں اور جب آپ ایران میں داخل ہوتے ہیں تو پابندیوں کا کوئی اثر دیکھنے کو نہیں ملتا۔
ہمیں اجرتی نہیں ہیں
بعض لوگ مجھے اور مجھ جیسے دینی مبلغین سے کہتے ہیں کہ "تمہیں پیسے ملتے ہیں اسی بنا پر تبلیغ کرتے ہو" لیکن میں انہیں جواب دیتا ہوں کہ "اگر میں اپنے ملک ارجنٹائن میں ہوتا تو یقینا کہیں زیادہ پیسے ملتے اور میری مالی حالت بہت بہتر ہوتی۔
کیا ایران جیت سکے گا؟
بعض لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا آج کی صورت حال میں ایران جیت سکے گا یا پھر امریکہ جیتے گا؟ تو میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ "آج سے 40 سال قبل امریکہ آج کی نسبت بہت زیادہ طاقتور تھا لیکن ایران کے ساتھ تقابل میں نہیں جیت سکا تو آج امریکہ کیونکر جیت سکے گا جبکہ وہ بہت زیادہ کمزور ہوچکا ہے جبکہ ایران بہت زیادہ طاقتور ہوچکا ہے اور اس کی طاقت علاقائی مزاحمت میں تبدیل ہوچکی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔
۱۱۰